Pakistan

خیبرپختونخوا میں اب حکومت کون چلائے گا؟

خیبرپختونخوا میں اب حکومت کون چلائے گا؟
۱۰ گھنٹے پہلے

اسلام آباد (سنابل جہانگیر) صوبے میں بیک وقت ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ ہو چکا ہے، گورنر نے گیارہ رکنی ایڈوائزری کونسل قائم کردی ہے۔ خیبرپختونخوا کا نیا سیٹ اپ کیسے کام کرے گا، آئیے جانتے ہیں اس ویڈیو میں۔

 

صدر آصف علی زرداری نے 11 اکتوبر کو وزیراعظم شہباز شریف کے مشورے پر خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کی منظوری دے دی۔ وفاقی حکومت نے اس فیصلے کی وجہ دہشتگردی کی بگڑتی صورت حال اور صوبائی حکومت کے انسدادِ دہشتگردی کی کوششوں میں عدم تعاون کو قرار دیا ہے۔

 

گورنر راج بلکہ آئین میں موجود ایک طریقۂ کار ہے۔ آئین کے آرٹیکل 234 کے تحت مخصوص حالات میں صوبائی حکومت کے اختیارات وفاقی سطح پر منتقل کیے جا سکتے ہیں۔

 

اس فیصلے کے بعد وفاقی حکومت نے صوبہ چلانے کے اختیارات خیبرپختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی کو تفویض کردیے ہیں۔ گورنر کے پی 11 رکنی ایڈوائزری کونسل کی مدد سے صوبے کے انتظامی معاملات دیکھیں گے۔

 

دوسری جانب آرٹیکل 232 کے تحت ایمرجنسی بھی نافذ کی گئی ہے، آئین کی اس شق کے تحت صوبے کے لیے کسی نئی قانون سازی کا اختیار قومی اسمبلی اور سینیٹ کے پاس چلا گیا ہے۔ ایمرجنسی کے دوران پارلیمنٹ صوبے کے حوالے سے کوئی بھی قانون سازی کرسکتی ہے۔

 

اس کے علاوہ وفاقی حکومت نے آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت صوبائی حکومت کی مدد کے لیے صوبے میں فوج کی تعیناتی کی بھی منظوری دے دی ہے۔ آرٹیکل 245 کے نفاذ کے بعد صوبے کی ہائیکورٹ آرٹیکل 199 کے تحت حکومتی اداروں، سرکاری افسران اور دیگر متعلقہ حکام کے اقدامات کا جائزہ نہیں لے سکتی اور نہ ہی بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے احکامات جاری کرسکتی ہے۔

 

وفاقی حکومت نے ایک اور ضمنی آرڈر کے تحت خیبرپختونخوا کے 12 اضلاع، جو حکومت کے مطابق تقریباً حالتِ جنگ میں ہیں، کے لیے گورنر خیبرپختونخوا اور چیف سیکریٹری کے تحت ایک سیکریٹریٹ قائم کیا گیا ہے۔ یہ سیکریٹریٹ ان 12 اضلاع کے معاملات کو براہِ راست دیکھے گا اور وفاقی حکومت کو آگاہ رکھے گا۔

 

 ان اضلاع کے لیے ایک کونسل تجویز کی گئی ہے جو ان اضلاع کی ترقی، تعمیر نو اور بحالی کے حوالے سے سارے معاملات سنبھالے گی۔ ایک ایڈیشنل سیکریٹری لیول کے افسر اس کونسل کے سربراہ ہوں گے اور ان 12 اضلاع کے معاملات دیکھیں گے۔

 

وفاقی حکومت کا مؤقف ہے کہ صوبے میں دہشتگردی کے خلاف مؤثر کارروائیوں کے لیے بہتر رابطہ کاری ضروری تھی، لیکن صوبائی حکومت کے ساتھ مذاکرات میں اتفاق نہیں ہوسکا۔

 

یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی قیادت میں پی ٹی آئی کا لانگ مارچ بھی سیاسی کشیدگی کا حصہ بنا ہوا تھا۔

 

تاہم پی ٹی آئی نے اس اقدام کو مسترد کرتے ہوئے فیصلے کو عدالتوں اور عوامی فورمز پر چیلنج کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔

 

اب اہم سوال یہ ہے کہ کیا گورنر راج سے دہشتگردی کے خلاف کارروائیوں میں بہتری آئے گی؟ اور کیا صوبے کے عوام کو امن، تحفظ اور بہتر انتظامی سہولتیں مل سکیں گی؟

مزید خبروں اور دلچسپ ویڈیوز کے لیے ہمارے ساتھ شامل ہوں