پاک افغان تجارتی راستے ایک سال سے بند،دونوں ممالک کی معیشتیں اورعلاقائی تجارت شدیدمتاثر
پاکستان اور افغانستان کے درمیان تقریباً ایک سال سے تجارتی راستوں کی بندش نے دونوں ملکوں کی معیشتوں کے ساتھ علاقائی تجارت کو بھی شدید متاثر کیا ہے۔ اس صورتحال کے باعث لاکھوں کسانوں، صنعت کاروں، تاجروں، ٹرانسپورٹرز اور دیگر متعلقہ شعبوں سے وابستہ افراد کے کاروبار اور روزگار کو نقصان پہنچا ہے۔
بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق اکتوبر 2025 میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان مسلح جھڑپوں اور حملوں کے بعد پاکستان نے افغانستان کے ساتھ تمام تجارتی راستے بند کر دیے تھے۔
یہ پہلا موقع ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان تمام اہم تجارتی گزرگاہیں اتنے طویل عرصے تک بند رہی ہیں۔
طورخم، سپین بولدک، غلام خان، خرلاچی اور انگور اڈہ وہ 5 اہم سرحدی راستے ہیں جن کے ذریعے پاکستان اور افغانستان کے درمیان دوطرفہ تجارت کے علاوہ وسطی اور جنوبی ایشیا کے درمیان بھی ہر سال اربوں ڈالر کی تجارت ہوتی تھی۔
تجارتی راستوں کی بندش سے افغانستان کو کیا نقصان ہوا؟
افغانستان کی طالبان حکومت نے سرحدی تجارت کی بندش کا ذمہ دار پاکستان کو قرار دیتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ اسلام آباد تجارت کو دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال کر رہا ہے۔ طالبان حکومت کا مطالبہ ہے کہ تجارت کو سیاست سے الگ رکھا جائے۔
راستوں کی بندش کے ایک ماہ بعد افغان نائب وزیراعظم برائے اقتصادی امور ملا عبدالغنی برادر نے تاجروں کو متبادل تجارتی راستے اختیار کرنے اور نئی منڈیاں تلاش کرنے کا مشورہ دیا تھا۔
اگرچہ افغان تاجروں اور حکام نے متبادل راستوں پر توجہ بڑھائی، تاہم پاکستان کے ساتھ تجارت کی بندش نے افغان معیشت کے کئی شعبوں کو متاثر کیا۔
افغانستان اور پاکستان کے مشترکہ چیمبر آف کامرس کے سربراہ خان جان الکوزئی نے بی بی سی کو بتایا کہ اس بندش سے خصوصاً تازہ پھلوں اور سبزیوں کی برآمدات شدید متاثر ہوئی ہیں۔
ان کے مطابق پاکستان افغان تازہ پھلوں کی ایک اہم منڈی ہے، اگرچہ کچھ پھل دوسرے ملکوں کو بھی برآمد کیے جاتے ہیں۔
افغان تاجروں کا کہنا ہے کہ پاکستان کے راستے عالمی منڈیوں اور بھارت پہنچنے والے تازہ اور خشک میوہ جات کی ترسیل متاثر ہونے کے باعث افغانستان کی مقامی منڈیوں میں ان کی قیمتیں گر گئی ہیں۔
قندھار کے تازہ پھلوں کے تاجر حاجی سعداللہ کے مطابق پھلوں کی قیمتوں میں 80 فیصد تک کمی ہوئی ہے۔
کراچی بندرگاہ سے تجارت متاثر، مال برداری کے اخراجات میں اضافہ
پاکستان کے ساتھ راستے بند ہونے سے افغانستان کی کراچی بندرگاہ کے ذریعے ہونے والی درآمدی تجارت بھی متاثر ہوئی ہے۔
افغان چیمبر آف کامرس کے عہدیداروں کے مطابق متبادل راستوں سے سامان منگوانے کے اخراجات بڑھ گئے ہیں، تاہم ان کا کہنا ہے کہ مجموعی طور پر افغان تجارت کو کسی بڑی رکاوٹ کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔
افغانستان اس وقت ایران، روس، ازبکستان، ترکمانستان، تاجکستان، چین، بیلاروس اور ترکی سے زیادہ اشیا درآمد کر رہا ہے، لیکن ان ملکوں سے تجارتی راستے پاکستان کے مقابلے میں طویل ہیں۔
خان جان الکوزئی کے مطابق پہلے پاکستان کے راستے ایک کنٹینر افغانستان پہنچانے پر زیادہ سے زیادہ 2,500 ڈالر خرچ ہوتے تھے، جبکہ اب متبادل راستوں سے یہی لاگت بڑھ کر 10,000 ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ چین اور مشرق وسطیٰ کے راستے افغانستان پہنچنے والی اشیا بھی نسبتاً زیادہ مہنگی پڑ رہی ہیں۔
بی بی سی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے ساتھ راستے بند ہونے کے 4 ماہ بعد امریکا اور بھارت نے ایران کے خلاف جنگ شروع کی، جس سے تیل کی قیمتیں بڑھیں اور افغانستان کی ایران کے ساتھ تجارت مزید مشکل ہو گئی۔
پاکستان کے راستے کی بندش کے باعث افغانستان کو مختصر اور کم خرچ تجارتی راستے سے محروم ہونا پڑا، جس کے نتیجے میں بعض اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔
کابل اور قندھار کے دکانداروں نے بی بی سی کو بتایا کہ قیمتوں میں اضافے کے ساتھ ان کے منافع میں بھی کمی آئی ہے۔
قندھار میں کھانے پینے کی اشیا فروخت کرنے والے حضرت ولی قیس کے مطابق پہلے انہیں 80 افغانی منافع ہوتا تھا، جو کم ہو کر 20 افغانی رہ گیا ہے۔
افغانستان میں مقامی پیداوار اور خود انحصاری میں اضافہ
پاکستان کے ساتھ تجارت متاثر ہونے کے بعد افغانستان میں مقامی پیداوار اور سرمایہ کاری بڑھانے کی کوششیں بھی تیز ہوئی ہیں۔
افغان صنعت کاروں کی انجمن کے سربراہ عبدالجبار صافی کے مطابق پاکستان کی جانب سے دباؤ نے افغانستان میں خود انحصاری کی ضرورت اور صلاحیت کو بڑھایا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران کئی نئے کارخانوں نے کام شروع کیا اور مقامی ضروریات پوری کرنے کے لیے پیداواری صلاحیت میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔
تاہم تقریباً ایک سال گزرنے کے باوجود پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور تجارتی راستے بدستور بند ہیں، جن کے دوبارہ کھلنے کے واضح آثار دکھائی نہیں دے رہے۔
پاکستان کی معیشت پر سرحدی بندش کے اثرات
تجارتی راستوں کی بندش سے پاکستان کی معیشت بھی متاثر ہوئی ہے، خصوصاً خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں افغانستان سے تجارت پر انحصار کرنے والے کاروباری شعبوں کو بھاری نقصان ہوا ہے۔
پاکستانی تاجروں اور صنعت کاروں کا کہنا ہے کہ اس صورتحال میں بڑی تعداد میں لوگ بے روزگار ہوئے، جبکہ کئی کارخانے بند ہو گئے یا ان کی پیداوار انتہائی محدود ہو گئی۔
سرحدی راستوں کی بندش سے پہلے پاکستان ہر سال کروڑوں ڈالر مالیت کی اشیا افغانستان برآمد کرتا تھا، جن میں مصالحے، ادویات، چاول، ٹیکسٹائل مصنوعات، تازہ پھل اور سبزیاں شامل تھیں۔
پاکستان افغانستان کے راستے وسطی ایشیائی ملکوں سے بھی تجارت کرتا تھا اور ہر سال ہزاروں ٹن سامان ان راستوں سے منتقل کیا جاتا تھا۔
خیبر پختونخوا میں پاکستان افغانستان مشترکہ ایوان تجارت کے سربراہ زاہداللہ شنواری نے بی بی سی کو بتایا کہ صوبے کی تقریباً 90 فیصد تجارت اور کاروبار کا تعلق افغانستان سے تھا۔
ان کے مطابق سرحدی راستے بند ہونے کے باعث کئی کارخانے بند ہو چکے ہیں، جبکہ بعض میں پیداوار کم ہو کر صرف 15 فیصد رہ گئی ہے۔
ٹرانسپورٹ کے شعبے کو شدید مالی نقصان
پاکستان اور افغانستان کے درمیان دوطرفہ اور ٹرانزٹ تجارت کے لیے دسیوں ہزار ٹرک اور ٹریلر استعمال ہوتے تھے۔
رپورٹ میں شامل سرکاری اعداد و شمار کے مطابق بندش سے پہلے روزانہ 800 سے 1,200 ٹرک طورخم، 500 سے 800 ٹرک چمن سپین بولدک، جبکہ 300 سے 500 ٹرک خرلاچی، غلام خان اور انگور اڈہ کے راستوں سے سامان منتقل کرتے تھے۔
افغانستان کو سیمنٹ، ادویات، ٹیکسٹائل مصنوعات، آٹا، چاول اور دیگر اشیا پہنچانے والی پاکستانی ٹرانسپورٹ کمپنیوں کو اب بھاری مالی نقصان کا سامنا ہے۔
خیبر پختونخوا میں ایک افغان ٹرانسپورٹ کمپنی کے سربراہ ملک بلال نے بتایا کہ طورخم کے راستے تجارت سے وابستہ ہزاروں افراد بے روزگار ہو گئے ہیں، جبکہ ہزاروں ٹرک بھی کھڑے ہیں اور استعمال نہیں ہو رہے۔
پاکستان میں مہنگائی اور بے روزگاری میں اضافہ
خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے دکانداروں کے مطابق تجارتی راستے بند ہونے سے کاروبار متاثر ہوا اور افغانستان سے درآمد کی جانے والی کئی اشیا، خصوصاً تازہ اور خشک میوہ جات اور سبزیوں کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔
پشاور کے دکاندار عمیر نے بی بی سی کو بتایا کہ قیمتوں میں اضافے کے باعث بہت سے افراد بے روزگار بھی ہوئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق مکمل بندش سے پہلے بھی وقتاً فوقتاً سرحدی راستے بند کرنے، تجارتی محصولات میں اضافے، ڈرائیوروں کے لیے ویزا لازمی قرار دینے اور کراچی سمیت مختلف بندرگاہوں پر افغان تاجروں کا سامان روکنے جیسے اقدامات سے تجارت متاثر ہو رہی تھی۔
تاہم اب مکمل بندش کے باعث خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں افغانستان کے ساتھ تجارت پر انحصار کرنے والے لاکھوں افراد کا روزگار متاثر ہوا ہے۔
گزشتہ ایک سال کے دوران پاکستانی تاجروں، صنعت کاروں اور مختلف شعبوں سے وابستہ افراد نے حکومت سے متعدد بار مطالبہ کیا ہے کہ افغانستان کے ساتھ تجارتی راستے دوبارہ کھولے جائیں۔
زاہداللہ شنواری کے مطابق افغانستان کے ساتھ تجارت رکنے اور وسطی ایشیائی ملکوں تک تجارتی رسائی متاثر ہونے سے گزشتہ ایک سال میں پاکستانی معیشت کو بھاری نقصان پہنچا ہے۔
دونوں ملکوں کے تاجر تجارت کی بحالی اور تجارتی معاملات کو سیاسی اختلافات سے الگ رکھنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
تاجروں کا کہنا ہے کہ سرحدی بندش کا سب سے زیادہ نقصان ڈیورنڈ لائن کے دونوں جانب رہنے والے لوگوں کو اٹھانا پڑ رہا ہے۔