زیلنسکی کی ٹرمپ اور روس کے ڈیزل معاہدے پر تنقید، پیوٹن کی جنگ کی مالی معاونت قرار
یوکرین کے صدر ولودومیر زیلنسکی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روس کے درمیان ہونے والے ڈیزل معاہدے کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی جنگ کے لیے مالی معاونت قرار دے دیا۔
برسلز میں یورپی یونین کے سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے زیلنسکی نے کہا کہ امریکا اور روس کے درمیان ڈیزل کا معاہدہ دراصل پیوٹن کی جنگ کے لیے مالی وسائل فراہم کرنے کے مترادف ہے۔
یوکرینی صدر نے روس کی جانب سے امن کے لیے کی جانے والی کوششوں کو محض دکھاوا قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ روسی صدر پیوٹن حقیقی امن مذاکرات میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتے۔
زیلنسکی نے فرنٹ لائن پر ڈرونز کو مار گرانے اور فوجی آپریشنز کے لیے استعمال ہونے والے سپیس ایکس کے سٹار شیلڈ سسٹم کی رفتار میں خلل پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا۔
یورپی یونین کے رہنماؤں نے سربراہی اجلاس کے دوران زیلنسکی کی حمایت کی۔ اس موقع پر اسٹونیا کے وزیراعظم نے یورپی ممالک پر زور دیا کہ وہ یوکرین کے بجٹ خسارے کو پورا کرنے کے لیے نیا قرض فراہم کریں۔
دوسری جانب یوکرین نے یورپی یونین سے آئندہ سال کی دفاعی ضروریات پوری کرنے اور روس کے خلاف مزاحمت جاری رکھنے کے لیے کم از کم 70 ارب یورو کی مالی معاونت فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔