پاکستان کی برآمدات میں سالانہ 18 فیصد اضافہ، کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ماہانہ 388 فیصد بڑھ گیا
کراچی: پاکستان کی برآمدات میں ستمبر 2026 کے دوران ماہانہ اور سالانہ بنیادوں پر نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ درآمدی بل بھی بڑھ گیا۔ پاکستان ادارہ شماریات نے ملکی تجارت سے متعلق تازہ اعداد و شمار جاری کردیے۔
ادارہ شماریات کے مطابق ستمبر 2026 میں پاکستان کی برآمدات ماہانہ بنیادوں پر 17 فیصد اور سالانہ بنیادوں پر 18 فیصد اضافے کے بعد 2 ارب 96 کروڑ ڈالر سے تجاوز کرگئیں۔ گزشتہ سال ستمبر میں برآمدات کا مجموعی حجم 2 ارب 50 کروڑ ڈالر ریکارڈ کیا گیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق ستمبر 2026 کے دوران ٹیکسٹائل سیکٹر کی برآمدات ایک ارب 60 کروڑ ڈالر رہیں، جو ماہانہ اور سالانہ دونوں بنیادوں پر 5 فیصد زیادہ ہیں۔
دوسری جانب ستمبر 2026 میں پاکستان کا درآمدی بل 6 ارب 50 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا، جو ماہانہ اور سالانہ بنیادوں پر 11 فیصد اضافے کو ظاہر کرتا ہے۔ گزشتہ سال ستمبر میں درآمدات کا حجم 5 ارب 85 کروڑ ڈالر تھا۔
ادارہ شماریات کے مطابق رواں مالی سال 2026-27 کی پہلی سہ ماہی، یعنی جولائی سے ستمبر کے دوران پاکستان کی برآمدات گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 11 فیصد بڑھ گئیں، جس کے بعد مجموعی برآمدات 8 ارب 45 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران پاکستان کا درآمدی بل 13 فیصد اضافے کے ساتھ 19 ارب 21 کروڑ ڈالر ہوگیا، جبکہ گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں درآمدات کا مجموعی حجم 16 ارب 97 کروڑ ڈالر ریکارڈ کیا گیا تھا۔
اس طرح رواں مالی سال کی ابتدائی تین ماہ کے دوران برآمدات اور درآمدات دونوں میں اضافہ ہوا، تاہم درآمدی بل کا مجموعی حجم برآمدات کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ رہا۔
دوسری جانب پاکستان کے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں ماہانہ بنیادوں پر غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
مرکزی بینک کے مطابق ستمبر 2026 میں پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ماہانہ بنیادوں پر 388 فیصد بڑھ کر 35 کروڑ 60 لاکھ ڈالر تک پہنچ گیا۔
سٹیٹ بینک آف پاکستان کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال ستمبر میں پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ 13 کروڑ 30 لاکھ ڈالر سرپلس تھا، جبکہ رواں سال اگست میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 7 کروڑ 30 لاکھ ڈالر ریکارڈ کیا گیا تھا۔
مرکزی بینک کے مطابق رواں مالی سال 2026-27 کی پہلی سہ ماہی کے دوران ملک کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 87 کروڑ 40 لاکھ ڈالر تک پہنچ گیا۔
سٹیٹ بینک کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 75 کروڑ 50 لاکھ ڈالر ریکارڈ کیا گیا تھا۔
دوسری جانب رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران پاکستان میں بیرونی سرمایہ کاری میں تقریباً 750 فیصد کا غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
سٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق رواں مالی سال کے ابتدائی 3 ماہ کے دوران ملک میں مجموعی طور پر 3 ارب 65 کروڑ ڈالر کی بیرونی سرمایہ کاری ہوئی۔
مرکزی بینک کے اعداد و شمار کے مطابق 3 ماہ کے دوران نجی شعبے میں بیرونی سرمایہ کاری 44 فیصد اضافے کے ساتھ 69 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئی، جبکہ سرکاری شعبے میں بیرونی سرمایہ کاری کا مجموعی حجم 2 ارب 89 کروڑ ڈالر رہا۔
سٹیٹ بینک کے مطابق بیرونی سرمایہ کاروں نے ستمبر کے دوران 3 ارب ڈالر کے یورو بانڈز میں بھی سرمایہ کاری کی۔