کبھی ہوائی قلعے نہیں بنائے، میری خدمات کو عالمی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے، مریم نواز
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا ہے کہ کبھی ہوائی قلعے نہیں بنائے،میری خدمات کو عالمی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے، صوبے میں برقی بسوں کے آغاز سے مسافروں پر پیٹرول اور ڈیزل کی بڑھتی قیمتوں کا اثر نہیں پڑا۔ انہوں نے انتظامی سروس کے افسران پر زور دیا کہ وہ سرکاری عہدوں کو محض ملازمت سمجھنے کے بجائے عوام کی زندگیوں میں بہتری لانے کے لیے استعمال کریں، کیونکہ ان کے فیصلے لاکھوں افراد کو متاثر کر سکتے ہیں۔
لاہور میں سندھ کی انتظامی سروس کے افسران سے ملاقات اور خطاب کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ وزارتِ اعلیٰ کا منصب صرف سرکاری گاڑی میں بیٹھ کر آنے جانے یا عہدے کی سہولیات حاصل کرنے کا نام نہیں، بلکہ اس کی بنیادی ذمہ داری عوام کی خدمت ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ہمیں عزت، شناخت اور آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کیے ہیں، اس لیے ہم ملک کے احسان مند ہیں اور اس کی خدمت کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔
وزیراعلیٰ نے انتظامی سروس کے افسران کو باعثِ فخر قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ پنجاب کے انتظامی معاملات چلانے کے لیے روزانہ افسران کے ساتھ ایک ٹیم کی صورت میں کام کرتی ہیں۔
مریم نواز نے بتایا کہ وہ خود بھی پاکستان میں تعلیم حاصل کرنے پر فخر محسوس کرتی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ریاست نے سرکاری افسران کی تعلیم، تربیت اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں پر سرمایہ کاری کی ہے، لہٰذا اب ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ یہ صلاحیتیں ملک اور عوام کی فلاح کے لیے استعمال کریں۔
وزیراعلیٰ کے مطابق انتظامی افسران کے فیصلے لاکھوں لوگوں کی زندگیوں پر اثر انداز ہو سکتے ہیں، اس لیے انہیں اپنے عہدوں کی اہمیت اور ذمہ داریوں کا احساس ہونا چاہیے۔
مریم نواز نے کہا کہ حکومت چلانا بظاہر آسان دکھائی دیتا ہے، لیکن حقیقت میں یہ ایک مشکل ذمہ داری ہے۔ مختلف چیلنجز کے باوجود وہ ہر روز نئے جذبے کے ساتھ عوامی خدمت کے لیے کام شروع کرتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان کی روزمرہ سرگرمیوں میں ایک منٹ بھی عوامی خدمت سے الگ نہیں ہوتا اور روزانہ شہریوں کی فلاح و بہبود کے لیے فیصلے کیے جاتے ہیں۔
وزیراعلیٰ نے سرکاری اداروں میں روایتی طرزِعمل پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ صرف دفتر آنا، حاضری لگانا، مشکل کام چھوڑ کر آسان فائلوں پر دستخط کرنا حقیقی معنوں میں ملازمت کا حق ادا کرنا نہیں ہے۔
انہوں نے اعتراف کیا کہ ان کی اپنی کابینہ میں بھی ایسے وزرا موجود ہیں جو لوگوں کو اپنے دروازے پر ملاقات کے لیے بلاتے ہیں اور بعد میں انہیں بھول جاتے ہیں۔
مریم نواز کے مطابق سرکاری منصب پر بیٹھنے والے شخص کو سب سے پہلے اپنی ذات اور ذاتی مفادات کو پسِ پشت ڈالنا پڑتا ہے۔
انہوں نے نوجوان افسران کو خبردار کیا کہ وہ آسان راستے اختیار کرکے اپنی ذمہ داریوں سے بچنے کی کوشش نہ کریں اور دوسروں کی غفلت کو اپنے کام نہ کرنے کا جواز نہ بنائیں۔
وزیراعلیٰ نے دعویٰ کیا کہ پنجاب کے حکومتی معاملات نمٹانے میں انہیں کبھی کسی مشکل کا سامنا نہیں کرنا پڑا اور ان کی توجہ کارکردگی اور عملی نتائج پر مرکوز رہی ہے۔
اپنی حکومت کے منصوبوں کا ذکر کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ پنجاب کے لیے ان کی خدمات کو عالمی سطح پر بھی تسلیم کیا گیا ہے، کیونکہ انہوں نے ہوائی قلعے بنانے کے بجائے مستحق خاندانوں کے اپنے گھر کے خواب پورے کرنے کے لیے عملی اقدامات کیے۔
انہوں نے اپنی چھت اپنا گھر سکیم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ منصوبے کو کامیاب بنانے کے لیے باقاعدہ چیک اینڈ بیلنس کا نظام قائم کیا گیا ہے۔
وزیراعلیٰ کے مطابق گھر بنانے کے لیے قرضوں کی اقساط ایک ساتھ دینے کے بجائے مرحلہ وار جاری کی جاتی ہیں اور ہر مرحلے پر تعمیراتی کام کی جانچ پڑتال کی جاتی ہے۔
مریم نواز نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ انہوں نے آج تک کسی افسر کی تقرری سفارش پر نہیں کروائی اور ہر جگہ میرٹ کو ترجیح دی ہے۔
صوبے میں عوامی ٹرانسپورٹ کی سہولیات کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ پنجاب میں برقی بسوں کے چلنے سے ان میں سفر کرنے والے مسافروں پر پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کا اثر نہیں پڑا۔
انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت کی ترجیح ایسے منصوبے اور فیصلے ہیں جن کے عملی فوائد براہِ راست عوام تک پہنچیں۔
مریم نواز نے نوجوان انتظامی افسران کو ملک کی مستقبل کی قیادت قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے عہدوں کو ذاتی سہولت یا محض ملازمت کے بجائے عوام کی خدمت کا ذریعہ بنائیں۔