لائبہ خودکشی کیس کے مرکزی ملزم کا مزید 9 افراد سے مالی فراڈ کا انکشاف
انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد کی گولڈ میڈلسٹ طالبہ لائبہ اعجاز کی مبینہ خودکشی کے معاملے کی تحقیقات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق مرکزی ملزم نعمان پر مزید 9 افراد کو سرکاری نوکریاں دلوانے کا جھانسہ دے کر لاکھوں روپے وصول کرنے اور جعلی تقرری نامے فراہم کرنے کے الزامات سامنے آئے ہیں، جبکہ پولیس لائبہ کی موت کے معاملے کے ساتھ دیگر مبینہ مالی فراڈ کی بھی تحقیقات کر رہی ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق ملزم نعمان نے متعدد افراد کو سرکاری اداروں میں ملازمتیں دلوانے کا وعدہ کیا اور اس کے بدلے ان سے لاکھوں روپے وصول کیے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزم نے متاثرہ افراد کو تقرری کے خطوط بھی فراہم کیے، جن کے ذریعے انہیں یقین دلایا گیا کہ ان کی سرکاری ملازمتوں کا انتظام ہو چکا ہے۔
تاہم بعد میں یہ دستاویزات مبینہ طور پر جعلی نکلیں اور متاثرہ افراد کو وعدے کے مطابق ملازمتیں نہ مل سکیں۔
پولیس ذرائع نے بتایا کہ مبینہ طور پر فراڈ کا شکار ہونے والے افراد نے ابتدا میں کسی متعلقہ فورم پر شکایت درج نہیں کروائی تھی، جس کی وجہ سے یہ معاملات سامنے نہیں آ سکے۔
تاہم اب وفاقی پولیس نے بعض متاثرین کا سراغ لگا لیا ہے، جبکہ مزید متاثرہ افراد بھی حکام سے رابطہ کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق پولیس ان افراد کے بیانات اور فراہم کردہ دستاویزات کی بنیاد پر ملزم نعمان کے خلاف سامنے آنے والے دیگر مبینہ فراڈ کے واقعات کی چھان بین کر رہی ہے۔
تحقیقاتی حکام یہ معلوم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ملزم نے مجموعی طور پر کتنے افراد کو سرکاری ملازمتوں کا جھانسہ دے کر رقم وصول کی۔
اس کے علاوہ یہ بھی جائزہ لیا جا رہا ہے کہ مبینہ مالی فراڈ میں نعمان کے ساتھ مزید کون سے افراد ملوث ہو سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد کی گولڈ میڈلسٹ طالبہ لائبہ اعجاز کی موت کے معاملے میں بھی نعمان کے خلاف تحقیقات جاری ہیں۔
لائبہ کے اہل خانہ نے الزام عائد کیا تھا کہ ملزم نے انہیں امریکا میں اعلیٰ تعلیم کے لیے داخلہ، ویزا اور سکالرشپ دلوانے کا وعدہ کرکے بھاری رقم حاصل کی تھی۔
اہل خانہ کے مطابق رقم وصول کرنے کے بعد انہیں مبینہ طور پر جعلی دستاویزات فراہم کی گئیں۔
پولیس اس معاملے میں سامنے آنے والے الزامات اور لائبہ کی موت سے متعلق شواہد کا جائزہ لے رہی ہے۔
پولیس کے مطابق لائبہ اعجاز کیس کے ساتھ ملزم نعمان کے خلاف سامنے آنے والی دیگر شکایات پر بھی تفتیش کی جا رہی ہے۔
وفاقی پولیس مزید متاثرین کی نشاندہی، ان سے وصول کی گئی مبینہ رقوم کی تفصیلات اور فراہم کردہ جعلی دستاویزات سے متعلق معلومات جمع کر رہی ہے۔
تحقیقاتی حکام یہ بھی معلوم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آیا مبینہ فراڈ میں مزید افراد کا کردار موجود ہے یا نہیں۔
ملزم نعمان کے خلاف سامنے آنے والے الزامات ابھی زیرِ تفتیش ہیں اور اس کے جرم سے متعلق کوئی حتمی عدالتی فیصلہ رپورٹ نہیں ہوا۔