Pakistan

اقرار الحسن کو مقدمے سے بری کرنے کی درخواست مسترد، جسمانی ریمانڈ میں 2 روز کی توسیع

اقرار الحسن کو مقدمے سے بری کرنے کی درخواست مسترد، جسمانی ریمانڈ میں 2 روز کی توسیع
۶ گھنٹے پہلے

نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی، این سی سی آئی اے، کے ہاتھوں گرفتار معروف اینکر پرسن اور عوام راج تحریک کے سربراہ اقرار الحسن کو مقدمے سے بری کرنے کی درخواست مسترد کر دی گئی ہے، جبکہ کراچی کی عدالت نے ان کے جسمانی ریمانڈ میں مزید 2 روز کی توسیع کر دی ہے۔ اس سے قبل عدالت نے ابتدائی 4 روزہ جسمانی ریمانڈ کے خلاف دائر کرمنل رویژن بھی مسترد کر دی تھی، جبکہ دفاعی وکلا نے گرفتاری کے طریقہ کار اور آزادیٔ اظہار کے آئینی حق سے متعلق سوالات اٹھائے تھے۔ 

ہفتے کے روز اقرار الحسن کو جوڈیشل مجسٹریٹ کراچی شرقی کی عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں عدالت نے انہیں مزید 2 روز کے جسمانی ریمانڈ پر این سی سی آئی اے کے حوالے کرنے کی منظوری دی۔ 

اس سے قبل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ شرقی کراچی نے 4 روزہ جسمانی ریمانڈ کو چیلنج کرنے والی کرمنل رویژن اور مقدمے سے ڈسچارج کرنے سے متعلق دفاعی وکلا کی استدعا مسترد کر دی تھی۔ 

فراہم کردہ رپورٹ کے مطابق اقرار الحسن کو 12 اکتوبر کی رات تقریباً 3 بجے لاہور کے علاقے ڈی ایچ اے فیز 8 میں واقع ان کی رہائش گاہ سے حراست میں لیا گیا تھا۔ 

گرفتاری کی کارروائی این سی سی آئی اے کی ٹیم نے سادہ کپڑوں میں ملبوس اہلکاروں کی مدد سے انجام دی۔ 

اقرار الحسن کے خلاف پیکا ترمیمی ایکٹ 2025 کے تحت مقدمہ نمبر 101/2026 درج کیا گیا ہے۔ 

گرفتاری کے بعد انہیں لاہور سے کراچی منتقل کیا گیا، جہاں جوڈیشل مجسٹریٹ نے ابتدائی طور پر ان کا 4 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کیا تھا۔ 

سیشن جج ارشد مرتضیٰ کی عدالت میں گزشتہ سماعت کے دوران اقرار الحسن کے وکلا میاں علی اشفاق اور شاہد حسین کریجو نے گرفتاری اور منتقلی کے طریقہ کار پر اعتراضات پیش کیے۔ 

دفاعی وکلا نے مؤقف اختیار کیا کہ لاہور سے اقرار الحسن کی گرفتاری کے دوران ضروری قانونی تقاضے پورے نہیں کیے گئے۔ 

ان کے مطابق لاہور سے کراچی منتقلی کے لیے راہداری ریمانڈ کے تقاضوں کی بھی مبینہ طور پر خلاف ورزی کی گئی۔ 

وکلا نے عدالت میں کہا کہ اقرار الحسن نے صرف سیاسی صورتحال اور ممکنہ گورنر راج کے معاملے پر اپنی رائے کا اظہار کیا تھا۔ 

دفاع کے مطابق سیاسی معاملات پر رائے دینا آئین کے تحت شہریوں کا بنیادی حق ہے۔ 

اقرار الحسن کے وکلا نے مزید مؤقف اختیار کیا کہ ان کے موکل کی الیکٹرانک ڈیوائسز پہلے ہی این سی سی آئی اے کے قبضے میں ہیں۔ 

وکلا کے مطابق ان ڈیوائسز میں 4 موبائل فونز اور ایک آئی پیڈ شامل ہیں۔ 

ان کا کہنا تھا کہ متعلقہ الیکٹرانک آلات تحقیقاتی ادارے کی تحویل میں ہونے کے بعد اقرار الحسن کے مزید جسمانی ریمانڈ کی ضرورت نہیں بنتی۔ 

سماعت کے دوران اقرار الحسن کی اہلیہ فرح اقرار بھی روسٹرم پر آئیں اور انہوں نے گرفتاری کے وقت اور حالات سے متعلق تفصیلات عدالت کے سامنے پیش کیں۔ 

دوسری جانب این سی سی آئی اے کے تفتیشی افسر انسپکٹر رانا محمد فیصل خان نے عدالت کو بتایا کہ قبضے میں لی گئی الیکٹرانک ڈیوائسز سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کا تجزیہ جاری ہے۔ 

تفتیشی افسر نے مؤقف اختیار کیا کہ الیکٹرانک شواہد کی جانچ پڑتال اور تفتیش آگے بڑھانے کے لیے ملزم کا جسمانی ریمانڈ ضروری ہے۔ 

گزشتہ سماعت کے تحریری حکم نامے میں عدالت نے قرار دیا تھا کہ آزادیٔ اظہارِ رائے کا آئینی حق قانون کے تحت عائد معقول پابندیوں کے تابع ہے۔ 

عدالت نے یہ بھی قرار دیا تھا کہ اقرار الحسن کے ابتدائی 4 روزہ جسمانی ریمانڈ کا حکم قانون کے مطابق جاری کیا گیا تھا۔ 

تازہ عدالتی کارروائی میں اقرار الحسن کو مقدمے سے ڈسچارج کرنے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے جسمانی ریمانڈ میں مزید 2 دن کی توسیع کر دی گئی ہے۔ 

اقرار الحسن کے خلاف مقدمہ نمبر 101/2026 کے تحت این سی سی آئی اے کی تفتیش جاری ہے۔

مزید خبروں اور دلچسپ ویڈیوز کے لیے ہمارے ساتھ شامل ہوں