World

روس اور یوکرین میں امن معاہدے کے لیے مذاکرات کر رہا ہوں، ٹرمپ

روس اور یوکرین میں امن معاہدے کے لیے مذاکرات کر رہا ہوں، ٹرمپ
۵ گھنٹے پہلے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ کے خاتمے اور امن معاہدے کے لیے مذاکرات کر رہے ہیں، جبکہ روسی برآمدات پر عائد پابندیوں اور ٹیرف کو ہٹانے کا مقصد ماسکو کو مذاکرات کی میز پر برقرار رکھنا ہے۔

 

 ٹرمپ نے یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی پر روسی ڈیزل ریفائنریوں کو نشانہ بنا کر عالمی منڈی متاثر کرنے کا الزام بھی عائد کیا اور دعویٰ کیا کہ روس اس وقت ایران کی بہت کم یا بالکل مدد نہیں کر رہا۔ 

واشنگٹن سے جاری اطلاعات کے مطابق امریکی صدر نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر بیان دیتے ہوئے کہا کہ روس سے متعلق ان کا فیصلہ بالکل سادہ ہے کیونکہ وہ روس اور یوکرین کے درمیان امن معاہدہ کرانے کے لیے بات چیت کر رہے ہیں۔ 

ٹرمپ نے کہا کہ وہ کوئی ایسا قدم نہیں اٹھانا چاہتے جس کے نتیجے میں روس غیر ارادی طور پر مذاکراتی عمل سے الگ ہو جائے۔ 

ان کے مطابق مذاکرات میں نمایاں پیش رفت ہو رہی ہے، جس میں یرغمالیوں کی رہائی سے متعلق جاری بات چیت بھی شامل ہے۔ 

امریکی صدر نے واضح کیا کہ روسی برآمدات سے متعلق پابندیاں اور ٹیرف ہٹانے کا فیصلہ اسی حکمت عملی کا حصہ ہے تاکہ روس مذاکرات کی میز پر موجود رہے۔ 

ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے روس کے کردار پر بھی بات کی اور دعویٰ کیا کہ ماسکو اس وقت تہران کی بہت کم یا بالکل مدد نہیں کر رہا، حالانکہ وہ اس سے کہیں زیادہ تعاون کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ 

انہوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ یہ صورتحال برقرار رہے، بشرطیکہ ان کے بقول احمق لوگ اس میں رکاوٹ نہ ڈالیں۔ 

یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی پر تنقید کرتے ہوئے ٹرمپ نے الزام عائد کیا کہ وہ روس میں ڈیزل ریفائنریوں کو نشانہ بنا رہے ہیں، حالانکہ انہیں معلوم ہے کہ ان حملوں سے عالمی ڈیزل مارکیٹ شدید متاثر ہو رہی ہے۔ 

امریکی صدر کے مطابق اس صورتحال کے اثرات امریکا تک پہنچ رہے ہیں اور کسانوں، مویشی پالنے والوں سمیت مختلف شعبوں کے کاروبار کو مشکلات کا سامنا ہے۔ 

ٹرمپ نے کہا کہ ان حالات کے باوجود روس کم قیمت پر لاکھوں بیرل ڈیزل عالمی منڈی میں فراہم کر رہا ہے۔ 

انہوں نے زیلنسکی پر صورتحال کی پروا نہ کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ یوکرینی صدر کو یورپ سے مبینہ طور پر بھاری مالی امداد مل رہی ہے، جبکہ ماضی میں سابق امریکی صدر جو بائیڈن نے بھی انہیں رقم فراہم کی تھی۔ 

ٹرمپ نے جو بائیڈن کو بدعنوان قرار دیتے ہوئے تنقید کا نشانہ بنایا اور دعویٰ کیا کہ زیلنسکی اس جنگ کو ختم نہیں کرنا چاہتے اور ممکن ہے کہ وہ کبھی اس کے خاتمے کے خواہش مند ہی نہ رہے ہوں۔ 

امریکی صدر نے اپنے مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ خود روس اور یوکرین کے درمیان جنگ ختم کرنا چاہتے ہیں۔ 

دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ اس سے قبل اسرائیلی انتخابات میں اپنے اتحادی اور موجودہ وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی باضابطہ حمایت کا اعلان بھی کر چکے ہیں۔ 

ٹروتھ سوشل پر ایک الگ پوسٹ میں ٹرمپ نے نیتن یاہو کو ایک عظیم جنگجو وزیراعظم اور امن کا شراکت دار قرار دیتے ہوئے ان کی تعریف کی۔ 

امریکی صدر نے رواں سال فروری میں ایران پر حملے شروع کرنے کے دوران امریکا کا ساتھ دینے پر بھی اسرائیلی وزیراعظم کو سراہا۔

مزید خبروں اور دلچسپ ویڈیوز کے لیے ہمارے ساتھ شامل ہوں