خواتین کو ترقی سے دنیا کی کوئی طاقت نہیں روک سکتی، مریم نواز
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا ہے کہ خواتین اپنی صلاحیتوں پر یقین رکھیں، دنیا کی کوئی طاقت انہیں کامیابی اور ترقی سے نہیں روک سکتی۔ خواتین کو اپنی منزل حاصل کرنے کے لیے مردوں کے مقابلے میں زیادہ محنت کرنا پڑتی ہے، حالانکہ قابلیت اور کامیابی کا جنس سے کوئی تعلق نہیں۔
لاہور میں کینئرڈ ڈگری کالج برائے خواتین کے کانووکیشن سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز نے طالبات پر زور دیا کہ وہ خود اعتمادی پیدا کریں، بڑے خواب دیکھیں اور مشکلات سے گھبرانے کے بجائے اپنے مقاصد کے حصول کے لیے مسلسل محنت کریں۔
انہوں نے کہا کہ خواتین کے لیے کامیابی کا سفر آسان نہیں ہوتا، جبکہ ان کے والدین کو بھی معاشرتی دباؤ اور مختلف چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ والدین اپنی بیٹیوں کے مستقبل اور تحفظ کے بارے میں فکرمند ہوتے ہیں، تاہم انہیں اپنی بیٹیوں پر اعتماد کرتے ہوئے آگے بڑھنے کے مواقع دینے چاہئیں۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے تقریب میں طالبات کو ایک دوسرے کی کامیابی پر خوش ہوتے اور تالیاں بجاتے دیکھ کر اطمینان کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ دوسری خواتین کی کامیابی کو سراہنا مثبت سوچ اور درست سمت میں پیش رفت کی علامت ہے۔
مریم نواز نے کہا کہ معاشرے میں جب کوئی مرد زیادہ محنت کرکے آگے بڑھنا چاہتا ہے تو اس کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے، لیکن جب کوئی خاتون بڑے مقاصد طے کرتی ہے تو بعض لوگ اسے خود غرض قرار دیتے ہیں۔ انہوں نے اس رویے کو غلط قرار دیتے ہوئے کہا کہ خواتین کو بھی تعلیم، ملازمت، خودمختاری اور کامیابی حاصل کرنے کا پورا حق ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ خواتین کی زندگی کے مقاصد صرف تعلیم مکمل کرنے، ڈگری لینے اور شادی کرنے تک محدود نہیں ہونے چاہئیں، بلکہ انہیں اپنی ذاتی اور پیشہ ورانہ ترقی کے لیے بھی کوشش جاری رکھنی چاہیے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ خواتین کو ایسا محفوظ ماحول فراہم کرے جہاں وہ بلاخوف تعلیم حاصل کرسکیں، ملازمت کرسکیں اور اپنی روزمرہ زندگی کی سرگرمیوں میں حصہ لے سکیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ خواتین، بچوں اور معاشرے کے کمزور طبقات کے خلاف جرائم برداشت نہیں کیے جائیں گے۔ خواتین کے خلاف جرائم ان کے لیے ریڈ لائن ہیں اور ہراسانی یا زیادتی کی شکایت سامنے آنے پر ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
مریم نواز نے والدین پر زور دیا کہ اگر ان کی بیٹی ہراسانی یا کسی ناخوشگوار واقعے کی شکایت کرے تو اس کی بات سنیں، اسے تحفظ فراہم کریں اور اسے قصوروار نہ ٹھہرائیں۔ شکایت کرنے والی لڑکی کو سکول یا کالج جانے سے روکنے کے بجائے متعلقہ شخص کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔
انہوں نے طالبات کو بتایا کہ کسی تعلیمی ادارے، بازار یا دوسری جگہ خود کو خطرے میں محسوس کرنے پر گلابی بٹن کی سہولت استعمال کی جاسکتی ہے، جس سے متعلقہ حکام کو اطلاع دی جاسکتی ہے۔ انہوں نے ہنگامی صورتحال میں پولیس ہیلپ لائن 15 پر رابطہ کرنے اور شکایت درج کرانے کی بھی ہدایت کی۔
خواتین کے لیے سفری سہولتوں کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ گرین بسوں میں خواتین کے لیے الگ حصہ مختص کیا گیا ہے، جہاں کیمروں اور براہ راست مانیٹرنگ کے ذریعے نگرانی کی جاتی ہے۔ سفر کے دوران ہراسانی کی شکایت پر فوری کارروائی کی جاتی ہے۔
مریم نواز نے کہا کہ پنجاب میں خواتین کو سکوٹیاں چلاتے، ہیلمٹ پہنتے، رکشے چلاتے اور مختلف شعبوں میں کام کرتے دیکھ کر انہیں خوشی ہوتی ہے، کیونکہ یہ خواتین کی عملی زندگی میں بڑھتی ہوئی شرکت کو ظاہر کرتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ لیپ ٹاپ سکیم، ہونہار سکالرشپ اور الیکٹرک بائیک سکیم سمیت مختلف حکومتی منصوبوں میں خواتین کی شرکت بڑھ رہی ہے۔ ان کے مطابق مختلف سکیموں سے فائدہ اٹھانے والوں میں 60 فیصد سے زیادہ خواتین شامل ہیں، جبکہ الیکٹرک بائیکس کے لیے موصول ہونے والی درخواستوں میں 65 فیصد طالبات کی ہیں۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے اعلان کیا کہ الیکٹرک بائیکس کی پہلی تقسیم 5 نومبر سے شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ طالبات کے لیے تعلیمی اداروں تک محفوظ اور آسان رسائی ضروری ہے تاکہ آمدورفت کی مشکلات ان کی تعلیم میں رکاوٹ نہ بنیں۔
مریم نواز نے طالبات کے لیے مزید بسیں فراہم کرنے کا بھی اعلان کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مختلف علاقوں سے طالبات نے پیغامات بھیجے ہیں کہ بس سروس ان کے سکولوں، کالجوں اور رہائشی علاقوں تک بڑھائی جائے۔
وزیراعلیٰ نے ایک طالبہ کی مثال بھی دی جو والدین کی مالی مشکلات کے باعث صبح یونیورسٹی جاتی اور شام کو گاڑی چلا کر اپنی تعلیم کے اخراجات پورے کرتی تھی۔ ان کے مطابق طالبہ نے بتایا کہ بہتر امن و امان کی وجہ سے وہ اعتماد کے ساتھ کام کر سکتی ہے اور لوگ اس کا احترام کرتے ہیں۔
مریم نواز نے کہا کہ تعلیم مالی پس منظر کی بنیاد پر پائے جانے والے فرق کو کم کرنے، خواتین میں خود اعتمادی پیدا کرنے اور انہیں اپنے حقوق سے آگاہ کرنے کا اہم ذریعہ ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پنجاب کی ہر تحصیل میں سکول آف ایمننس قائم کرنے کا منصوبہ ہے، جہاں بچوں کو مفت معیاری تعلیم فراہم کی جائے گی۔ ان اداروں میں نصاب، اساتذہ کی تربیت، غیر نصابی سرگرمیوں، ٹرانسپورٹ اور طلبہ کے تحفظ پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔
ہونہار سکالرشپ پروگرام کے بارے میں وزیراعلیٰ نے کہا کہ حکومت باصلاحیت اور مستحق طلبہ کی مدد کر رہی ہے تاکہ مالی مشکلات ان کی تعلیم میں رکاوٹ نہ بن سکیں۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب میں امن و امان، صفائی، تعلیم اور شہری سہولتوں کی بہتری کے لیے بھی کام جاری ہے، جبکہ خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے انہیں محفوظ اور سازگار ماحول فراہم کرنا ضروری ہے۔
خطاب کے اختتام پر مریم نواز نے طالبات پر زور دیا کہ وہ اپنی تعلیم جاری رکھیں، خود کو کسی سے کم نہ سمجھیں، اپنی صلاحیتوں پر بھروسا کریں اور مشکلات کا مقابلہ کرتے ہوئے مستقل مزاجی کے ساتھ آگے بڑھتی رہیں۔