ترکی نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ منظوری کے لیے پارلیمان میں جمع کرا دیا
ترکی کی حکومت نے پاکستان اور سعودی عرب کے ساتھ طے پانے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے سے متعلق بل ترک پارلیمان کے سپیکر کو جمع کرا دیا ہے۔ بل کو ابتدائی جائزے کے لیے ترکی کی گرینڈ نیشنل اسمبلی کی خارجہ امور کمیٹی کے سپرد کیا جائے گا۔
مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر 7 اگست کو ترک صدر رجب طیب اردوغان، وزیراعظم پاکستان شہباز شریف اور سعودی ولی عہد و وزیراعظم محمد بن سلمان نے دستخط کیے تھے۔
ترکی کے آئین کے مطابق کسی بھی بین الاقوامی معاہدے کو نافذ کرنے کے لیے گرینڈ نیشنل اسمبلی کی منظوری ضروری ہے۔
ترک حکومت اس وقت معاہدے کے تحت سعودی عرب کو فراہم کی جانے والی ممکنہ عسکری معاونت کے دائرہ کار اور قانونی فریم ورک کا جائزہ لے رہی ہے۔
معاہدے کے تحت ترکی کے ممکنہ فوجی کردار سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے واضح کیا کہ ترکی کسی دوسرے ملک کی سرزمین پر اپنی فوج تعینات نہیں کرے گا اور نہ ہی وہاں جا کر کوئی حملہ کرے گا۔
سعودی عرب کو حالیہ عرصے میں یمن میں موجود حوثیوں کی جانب سے بڑھتے ہوئے حملوں کا سامنا ہے۔
اس صورتحال کے پیش نظر ترکی مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے فریم ورک کے تحت سعودی عرب کو عسکری تعاون فراہم کرنے کے امکانات پر غور کر رہا ہے۔