دمام کے کنگ فہد انٹرنیشنل ایئرپورٹ اورشیبہ آئل فیلڈ پر حوثیوں کے حملے،3 افرادجاں بحق
سعودی عرب کے شہر دمام میں کنگ فہد انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور مشرقی صوبے میں واقع شیبہ آئل فیلڈ پر الگ الگ حملوں میں مجموعی طور پر تین افراد ہلاک اور دس زخمی ہوگئے۔ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر امریکا نے بعض سفارتی اہلکاروں اور ان کے اہل خانہ کو سعودی عرب چھوڑنے کی ہدایت کردی ہے، جبکہ فرانسیسی صدر ایمانویل میکخواں نے ریاض کا اچانک دورہ کرکے سعودی قیادت سے ملاقات کی۔
سعودی عرب کی جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن کے مطابق بدھ کی شام مشرقی شہر دمام میں واقع کنگ فہد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حملہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں ایک غیر ملکی شہری ہلاک اور آٹھ افراد زخمی ہوئے۔
سعودی ادارے نے بتایا کہ زخمیوں کی چوٹیں معمولی سے شدید نوعیت کی ہیں، تاہم حملے میں استعمال ہونے والے ڈرون یا اس کے ماخذ کے بارے میں تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
دوسری جانب سعودی قیادت میں قائم اتحاد نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران تیل سے مالامال مشرقی علاقے میں پانچ ڈرون مار گرائے گئے۔
سعودی وزارت توانائی اور سرکاری خبر رساں ادارے سعودی پریس ایجنسی کے مطابق بدھ 21 اکتوبر کی صبح مشرقی صوبے میں واقع آرامکو کی شیبہ آئل فیلڈ کی ایک تنصیب کو نشانہ بنانے کی کوشش کرنے والے ڈرون کو فضائی دفاعی نظام نے فضا میں تباہ کردیا۔
وزارت توانائی نے بتایا کہ ڈرون کا ملبہ گرنے سے آئل فیلڈ میں کام کرنے والے ایک ٹھیکیدار کی گاڑی میں آگ لگ گئی، جو تنصیب کی حدود سے باہر موجود تھی۔
اس واقعے میں فلپائن اور نیپال سے تعلق رکھنے والے دو غیر ملکی کارکن ہلاک ہوئے، جبکہ ایک پاکستانی اور ایک بھارتی شہری زخمی ہوگئے۔
سعودی وزارت توانائی کے مطابق واقعے سے شیبہ آئل فیلڈ کی تیل کی پیداوار یا دیگر آپریشنز متاثر نہیں ہوئے۔
ادھر امریکی وزارت خارجہ نے ریاض میں اپنے سفارت خانے کے تمام غیر ضروری عملے اور ان کے اہل خانہ کو سعودی عرب چھوڑنے کی ہدایت جاری کردی ہے۔
سفارتی ذرائع کے مطابق امریکا نے متحدہ عرب امارات، اردن، قطر اور بحرین میں تعینات اپنے سفارتی اہلکاروں کے اہل خانہ کو بھی ان ممالک سے نکلنے کی ہدایت دی ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق امریکی حکام کا کہنا ہے کہ خلیجی خطے میں سیکیورٹی صورتحال مزید کشیدہ ہونے اور یمن کے حوثیوں کے ساتھ ممکنہ لڑائی کے خدشات کے باعث یہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
ریاض میں امریکی سفارت خانے نے بھی سعودی عرب پر مزید حوثی حملوں کے امکان سے متعلق سیکیورٹی انتباہ جاری کیا ہے۔
دوسری جانب فرانس کے صدر ایمانویل میکخواں نے سعودی دارالحکومت ریاض کا اچانک دورہ کیا، جہاں انہوں نے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کی۔
فرانسیسی ایوان صدر ایلیزیے محل کے مطابق دورے کا مقصد حوثی حملوں کے تناظر میں سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرنا اور ہائیڈروکاربن وسائل کی فراہمی کے تحفظ اور توانائی کے ذرائع میں تنوع کے لیے تعاون بڑھانا تھا۔
فرانسیسی صدر اپنے خلیجی دورے کے دوران کویت، متحدہ عرب امارات، بحرین اور قطر بھی جا چکے ہیں۔ اکتوبر کے آغاز سے حوثی حملوں میں اضافے کے بعد وہ سعودی عرب کا دورہ کرنے والے پہلے مغربی سربراہ مملکت بن گئے ہیں۔
صحافیوں سے گفتگو میں ایمانویل میکخواں نے کہا کہ وہ اپنا فرض ادا کر رہے ہیں۔
سعودی عرب پہنچنے سے قبل قطر میں فرانسیسی صدر نے اعلان کیا تھا کہ فرانس نے سعودی عرب کی اہم آئل ٹرمینل بندرگاہ ینبع پر اہلکار اور سازوسامان بھیج دیا ہے۔
ادھر مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی نے کہا ہے کہ سعودی عرب کو ممکنہ فوجی معاونت کی پیشکش کا مقصد صرف سعودی سرزمین اور سرحدوں کا دفاع ہے اور اس میں یمن پر کسی قسم کا حملہ شامل نہیں۔
مصری صدر کا کہنا تھا کہ اگر درخواست کی جائے تو مصر کسی بھی عرب ملک کے دفاع کے لیے تیار ہے۔
دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے خبردار کیا کہ یمن میں کسی بھی بیرونی فوجی مداخلت سے صورتحال مزید پیچیدہ ہوجائے گی۔
انہوں نے کہا کہ مصر پہلے ہی تہران کو آگاہ کرچکا ہے کہ وہ اس تنازع میں براہ راست مداخلت نہیں کرے گا۔
عباس عراقچی کے مطابق ایران کی جانب سے جنگ بندی اور مذاکرات میں سہولت فراہم کرنے کی پیشکش پر تاحال سعودی عرب یا حوثی تنظیم کی طرف سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق ولی عہد محمد بن سلمان نے مصر کے وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی سے ملاقات کے دوران مصری صدر کا ایک تحریری پیغام بھی وصول کیا۔ ملاقات میں دوطرفہ تعلقات اور علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
دوسری جانب یمن کی حوثی تنظیم انصار اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے جنوبی صوبے حضرموت کے دارالحکومت مکلا میں الریان ایئرپورٹ پر سعودی فوجی کارگو طیاروں کے ذریعے پہنچائے گئے فوجی سازوسامان کو نشانہ بنایا ہے۔
حوثیوں نے ریاض کو خبردار کیا ہے کہ وہ ان کے بقول شہری تنصیبات کو فوجی مقاصد کے لیے استعمال نہ کرے۔