یواے ای کی لانا نسیبہ اقوام متحدہ کی پہلی خاتون سیکریٹری جنرل بننے کی دوڑ میں شامل
متحدہ عرب امارات کی سینئر سفارت کار اور وزیر مملکت برائے امور خارجہ لانا نسیبہ نے اقوام متحدہ کے نئے سیکریٹری جنرل کے عہدے کے لیے اپنی امیدوار ی کا اعلان کردیا ہے۔ اگر وہ کامیاب ہوئیں تو عالمی ادارے کی تاریخ میں پہلی خاتون سیکریٹری جنرل ہوں گی۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کو انٹرویو دیتے ہوئے 48 سالہ لانا نسیبہ نے کہا کہ اقوام متحدہ کو عالمی بحرانوں کے دوران محض تماشائی بننے کے بجائے سفارتی حل تلاش کرنے میں مؤثر کردار ادا کرنا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ دنیا کو ایسے سیکریٹری جنرل کی ضرورت ہے جو کثیرالجہتی تعاون کو فروغ دینے اور اقوام متحدہ کے مستقبل کو مضبوط بنانے کے لیے نئے عزم کے ساتھ کام کرے۔
لانا نسیبہ ایک دہائی سے زائد عرصے تک اقوام متحدہ میں متحدہ عرب امارات کی سفیر رہ چکی ہیں۔ انہوں نے سلامتی کونسل کی رکنیت کے لیے متحدہ عرب امارات کی کامیاب مہم کی قیادت بھی کی تھی، جبکہ نیویارک کے سفارتی حلقوں میں انہیں ایک مؤثر منتظم سمجھا جاتا ہے۔
لانا نسیبہ سیکریٹری جنرل کے انتخاب کی دوڑ میں نسبتاً تاخیر سے شامل ہوئی ہیں۔ اس سے قبل کوسٹا ریکا کی سابق نائب صدر ربیکا گرینسپین غیر رسمی رائے شماری میں دیگر امیدواروں پر معمولی برتری رکھتی تھیں۔
تاہم گزشتہ ہفتے ہونے والی غیر رسمی رائے شماری میں گرینسپین سمیت تمام امیدواروں کو سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان برطانیہ، چین، فرانس، روس اور امریکا میں سے کم از کم دو ارکان کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔
سلامتی کونسل کے ارکان اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ امیدواروں سے متعلق اگلی غیر رسمی رائے شماری جمعے کو کرائی جائے یا اسے کسی بعد کی تاریخ تک مؤخر کردیا جائے۔
لانا نسیبہ نے بتایا کہ اقوام متحدہ کی گزشتہ جنرل اسمبلی کے دوران متعدد ممالک نے انہیں سیکریٹری جنرل کے عہدے کے لیے امیدوار بننے کی ترغیب دی تھی۔ ان کے مطابق عالمی ادارے کو نئی نسل کی نمائندگی کرنے والی قیادت کی ضرورت ہے۔
غزہ جنگ کے دوران بھی لانا نسیبہ اقوام متحدہ میں سفارتی سرگرمیوں میں شریک رہیں۔ 2023 میں جنگ شروع ہونے کے بعد انہوں نے سلامتی کونسل سے قرارداد 2720 منظور کرانے میں کردار ادا کیا، جس کا مقصد غزہ میں انسانی امداد کی فراہمی میں سہولت پیدا کرنا تھا۔
لانا نسیبہ کے مطابق انہوں نے سلامتی کونسل کے ارکان کے لیے رفح سرحدی گزرگاہ کے دورے کا بھی انتظام کیا تاکہ وہ زمینی صورتحال کا براہ راست جائزہ لے سکیں۔ انہوں نے اس اقدام کو اپنی تخلیقی سفارت کاری کی مثال قرار دیا۔
متحدہ عرب امارات کی خارجہ پالیسی میں لانا نسیبہ ابوظبی کے مؤقف اور سیاسی اسلام کی مخالفت کی پالیسی کی حمایت کرتی رہی ہیں۔
دوسری جانب سوڈان کے تنازع میں متحدہ عرب امارات کے مبینہ کردار پر تنقید بھی سامنے آئی ہے۔ اقوام متحدہ کی پابندیوں کی نگرانی کرنے والے ماہرین نے ان الزامات کو قابل اعتبار قرار دیا تھا کہ متحدہ عرب امارات نے سوڈان کی نیم فوجی تنظیم ریپڈ سپورٹ فورسز کو عسکری مدد فراہم کی، تاہم اماراتی حکومت ان الزامات کی تردید کرتی ہے۔
سوڈان سے متعلق الزامات کے اپنی امیدوار ی پر ممکنہ اثرات کے بارے میں سوال پر لانا نسیبہ نے کہا کہ انہوں نے متحدہ عرب امارات میں اپنے سرکاری عہدے سے چھٹی لے لی ہے اور اب وہ سوڈان کے انسانی بحران پر توجہ مرکوز کریں گی۔
اگر لانا نسیبہ اقوام متحدہ کی سیکریٹری جنرل منتخب ہوگئیں تو وہ مصر کے بطرس بطرس غالی کے بعد مشرق وسطیٰ سے تعلق رکھنے والی دوسری شخصیت ہوں گی جو عالمی ادارے کی سربراہی کرے گی۔