World

حوثیوں کے داغے گئے بیلسٹک میزائل اور ڈرونز تباہ، اکتوبر میں سعودی عرب میں 24 ہلاکتیں

حوثیوں کے داغے گئے بیلسٹک میزائل اور ڈرونز تباہ، اکتوبر میں سعودی عرب میں 24 ہلاکتیں
۱ منٹ پہلے

یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت کرنے والے سعودی فوجی اتحاد نے جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب حوثیوں کی جانب سے داغے گئے 2 بیلسٹک میزائل اور 2 ڈرونز تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

 

 دوسری جانب حوثیوں نے سعودی وزارت دفاع کی عمارت، دو ہوائی اڈوں اور آرامکو کی ایک تنصیب سمیت 4 اہم مقامات پر حملوں کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ اکتوبر کے دوران سعودی عرب پر میزائل اور ڈرون حملوں میں 24 افراد کی ہلاکت اور کم از کم 374 کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ 

سعودی فوجی اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی کے مطابق حوثیوں نے ایک بیلسٹک میزائل نجران جبکہ دوسرا دارالحکومت ریاض کی جانب داغا تھا۔ 

ترجمان نے بتایا کہ سعودی فضائی دفاعی نظام نے دونوں میزائلوں کا سراغ لگا کر انہیں ہدف تک پہنچنے سے پہلے ہی تباہ کردیا۔ 

ترکی المالکی کے مطابق ریاض کی جانب آنے والے بیلسٹک میزائل کو صبح تقریباً 4 بجے فضا میں تباہ کیا گیا، جبکہ اس سے قبل رات کے دوران سعودی عرب کے جنوبی علاقوں کی جانب بھیجے گئے 2 ڈرونز بھی مار گرائے گئے تھے۔ 

دوسری جانب حوثیوں کے فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے گروہ نے گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران سعودی عرب کے اندر 4 فوجی کارروائیاں کی ہیں۔ 

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری ویڈیو بیان میں یحییٰ سریع نے کہا کہ حوثیوں نے ریاض میں واقع سعودی وزارت دفاع کی عمارت، شاہ فہد انٹرنیشنل ایئرپورٹ، ینبع میں واقع سعودی آرامکو کی تنصیب اور ابھا انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو نشانہ بنایا۔ 

حوثی ترجمان کے مطابق ان کارروائیوں میں بیلسٹک میزائل اور ڈرونز استعمال کیے گئے اور چاروں اہداف کو براہ راست نشانہ بنایا گیا۔ 

یحییٰ سریع نے سعودی عرب پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 100 روز کے دوران حالیہ کشیدگی کے مرحلے میں یمن کے شہری مقامات پر 2 ہزار 900 سے زائد فضائی اور میزائل حملے کیے گئے۔ 

انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ ان حملوں کے نتیجے میں 562 سے زیادہ افراد ہلاک اور زخمی ہوئے، جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے۔ 

حوثی ترجمان کی جانب سے پیش کیے گئے ان اعداد و شمار کی بھی فراہم کردہ رپورٹس میں آزادانہ تصدیق موجود نہیں۔ 

یحییٰ سریع نے خبردار کیا کہ حوثی اپنے ملک اور عوام کے دفاع کے نام پر سعودی عرب کے اندر کارروائیاں جاری رکھیں گے۔ 

دوسری جانب سعودی فوجی اتحاد کا کہنا ہے کہ گزشتہ چند روز کے دوران ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب پر میزائل اور ڈرون حملوں میں تیزی آئی ہے۔ 

اتحادی افواج کے مطابق اکتوبر کے دوران حوثیوں نے سعودی عرب کو نشانہ بنانے کے لیے کم از کم 14 بیلسٹک میزائل اور 60 سے زائد ڈرونز بھیجے۔ 

ان حملوں میں دارالحکومت ریاض، خمیس مشیط، نجران اور مشرقی صوبے کے مختلف علاقوں کو نشانہ بنایا گیا۔ 

سعودی اتحاد کے مطابق 15 اکتوبر کو مدینہ منورہ کے علاقے کی جانب داغا گیا ایک کروز میزائل بھی فضائی دفاعی نظام نے تباہ کردیا تھا۔ 

رپورٹس کے مطابق حوثیوں کی جانب سے حالیہ حملوں میں سعودی عرب کے ہوائی اڈوں، توانائی کی تنصیبات اور دیگر شہری مقامات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ 

سعودی پریس ایجنسی کے مطابق رواں ماہ اکتوبر کے دوران ان حملوں کے نتیجے میں مجموعی طور پر 24 افراد ہلاک اور کم از کم 374 زخمی ہوئے ہیں۔ 

سب سے زیادہ جانی نقصان ریاض کے شاہ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر 7 سے 11 اکتوبر کے درمیان ہونے والے میزائل اور ڈرون حملوں میں رپورٹ کیا گیا، جہاں 18 افراد ہلاک اور 333 سے زائد زخمی ہوئے۔ 

رپورٹ کے مطابق 10 اکتوبر کا حملہ سب سے زیادہ مہلک تھا، جب ایک بیلسٹک میزائل ایئرپورٹ کے ٹرمینل نمبر 3 اور 4 کے درمیان گرا۔ 

اس حملے کے نتیجے میں 13 افراد ہلاک اور 309 زخمی ہوئے تھے۔ 

سعودی رپورٹس میں بتایا گیا کہ فضائی دفاعی نظام کے ذریعے تباہ کیے جانے والے میزائلوں اور ڈرونز کا ملبہ گرنے سے بھی جانی اور مالی نقصان ہوا۔ 

اسی طرح ابھا انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور دمام کے شاہ فہد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ہونے والے حملوں میں دو، دو افراد ہلاک ہوئے، جبکہ دونوں مقامات پر مجموعی طور پر 36 افراد زخمی ہوئے۔ 

سعودی آرامکو کی شیبہ آئل تنصیبات پر حملوں میں بھی 2 افراد ہلاک اور 2 زخمی ہوئے، جبکہ جازان کے شاہ عبداللہ ایئرپورٹ کو نشانہ بنانے والے حملوں میں 3 افراد زخمی ہوئے۔ 

رپورٹس کے مطابق تازہ میزائل حملے سے ایک روز قبل عرب ممالک اور مسلم ورلڈ لیگ نے شاہ فہد انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور شیبہ آئل فیلڈ پر حملوں کی شدید مذمت کی تھی۔ 

فراہم کردہ اطلاعات کے مطابق ان حملوں میں 4 افراد ہلاک اور 10 زخمی ہوئے تھے۔ 

متحدہ عرب امارات، قطر، بحرین، اردن اور مصر نے سعودی عرب پر حملوں کی مذمت کرتے ہوئے انہیں مملکت کی خودمختاری اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا۔ 

ان ممالک نے سعودی عرب کی سلامتی، استحکام اور علاقائی سالمیت کی حمایت کا اعادہ کیا۔ 

بحرین نے حملوں کی روک تھام کے لیے عالمی سطح پر اقدامات کا مطالبہ کرتے ہوئے خبردار کیا کہ کشیدگی میں مزید اضافہ خطے کے امن اور عالمی توانائی کی سلامتی کے لیے خطرات پیدا کرسکتا ہے۔ 

واضح رہے کہ میزائل اور ڈرون حملوں، جانی نقصانات اور فوجی کارروائیوں سے متعلق مختلف تفصیلات سعودی فوجی اتحاد، سعودی ذرائع ابلاغ اور حوثیوں کے بیانات پر مبنی ہیں، جبکہ فراہم کردہ معلومات میں متضاد دعوؤں کی مکمل آزادانہ تصدیق موجود نہیں۔

مزید خبروں اور دلچسپ ویڈیوز کے لیے ہمارے ساتھ شامل ہوں