اردن میں آخری رسومات کے دوران چرچ میں فائرنگ، 7 افراد ہلاک، 10 زخمی
اردن کے صوبے کرک میں جمعے کے روز چرچ میں آخری رسومات کے دوران دو مسلح افراد کی فائرنگ سے کم از کم 7 افراد ہلاک اور 10 زخمی ہوگئے۔
حملہ آوروں نے مذہبی تقریب میں شریک افراد کو نشانہ بنایا، جبکہ واقعے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے ملزمان کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن شروع کردیا۔
اردن کے سرکاری ٹی وی چینل المملکہ کے مطابق واقعہ کرک گورنریٹ کے علاقے حمود میں واقع ایک چرچ میں پیش آیا، جہاں ایک میت کی آخری رسومات ادا کی جارہی تھیں۔
رپورٹ کے مطابق دو مسلح افراد ایک گاڑی میں سوار ہوکر چرچ پہنچے اور وہاں موجود افراد پر اندھا دھند فائرنگ شروع کردی۔
فائرنگ کے وقت چرچ میں درجنوں افراد موجود تھے، جو آخری رسومات میں شرکت کے لیے جمع ہوئے تھے۔
تقریب میں شریک عینی شاہد خالد برقان نے المملکہ کو بتایا کہ ایک حملہ آور کے پاس رائفل تھی، جبکہ دوسرا پستول سے مسلح تھا۔
ان کے مطابق دونوں حملہ آوروں نے کئی منٹ تک مسلسل فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں تقریب میں شریک متعدد افراد نشانہ بنے۔
اردنی حکام کے مطابق فائرنگ سے کم از کم 7 افراد جان کی بازی ہار گئے، جبکہ 10 دیگر زخمی ہوئے۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی سیکیورٹی فورسز جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور حملہ آوروں کو تلاش کرنے کے لیے کارروائیاں شروع کردیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ تاحال کسی تنظیم یا گروہ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔
اردن کے محکمہ پبلک سیکیورٹی کے عہدیدار محمد المومنی کے مطابق متعلقہ سیکیورٹی ادارے واقعے کی تحقیقات کررہے ہیں، جبکہ ملزمان کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن بھی جاری ہے۔
واضح رہے کہ اردن کو مشرق وسطیٰ کے نسبتاً مستحکم ممالک میں شمار کیا جاتا ہے، جہاں اس نوعیت کے پرتشدد واقعات کم رپورٹ ہوتے ہیں۔
اردن میں مسلمان اور مسیحی برادریاں طویل عرصے سے آباد ہیں، تاہم مسیحی ملک کی اقلیتی آبادی میں شامل ہیں۔
ملک میں مسیحی روایات کے حوالے سے اہم مذہبی مقامات بھی موجود ہیں، جہاں دنیا بھر سے مسیحی زائرین زیارت کے لیے آتے ہیں۔
چرچ میں فائرنگ کے واقعے کے بعد سیکیورٹی اداروں کی تحقیقات جاری ہیں، جبکہ حملہ آوروں کی شناخت، گرفتاری اور حملے کے محرکات سے متعلق مزید تفصیلات سامنے آنا باقی ہیں۔