آذربائیجانی خاتون نے ملزم احمد تنویر کو بے قصور قرار دے دیا
لاہور میں آذربائیجان کی خاتون سے مبینہ زیادتی کے مقدمے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ خاتون نے نئے ویڈیو بیان میں ملزم احمد تنویر کو بے قصور قرار دے دیا، تاہم پولیس نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ متاثرہ خاتون اپنے عدالتی بیان میں تین افراد پر الزام عائد کرچکی ہیں۔ دوسری جانب احمد تنویر کے خلاف شہری کو اغوا اور تشدد کا نشانہ بنانے کا ایک اور مقدمہ درج کرلیا گیا ہے، جس کے بعد معاملہ مزید پیچیدہ ہوگیا ہے۔
احمد تنویر کو شہری کے اغوا اور تشدد کے نئے مقدمے میں لاہور کی ماڈل ٹاؤن کچہری میں پیش کیا گیا۔ پولیس کے مطابق ملزم سمیت دیگر افراد کے خلاف تھانہ اچھرہ میں مقدمہ درج ہے۔
دوران سماعت پولیس نے احمد تنویر کو شناخت پریڈ کے لیے جیل بھجوانے کی استدعا کی، جس پر عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا۔
ملزم کی جانب سے ایڈوکیٹ صفدر شاہین پیرزادہ عدالت میں پیش ہوئے اور پولیس کارروائی پر اعتراضات اٹھائے۔
وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ احمد تنویر کو گزشتہ روز سیشن عدالت سے مبینہ زیادتی کے مقدمے میں ضمانت مل چکی تھی۔
ان کے مطابق پولیس نے ایک روز قبل عدالت کو بتایا تھا کہ احمد تنویر کے خلاف کوئی دوسرا مقدمہ درج نہیں، تاہم عدالت سے باہر نکلتے ہی پولیس نے ان کے مؤکل اور اس کے بھائی کو گرفتار کرلیا۔
صفدر شاہین پیرزادہ نے نئے مقدمے کو جھوٹا قرار دیتے ہوئے عدالت سے احمد تنویر کو مقدمے سے ڈسچارج کرنے کی درخواست کی۔
دوسری جانب مبینہ زیادتی کا نشانہ بننے والی آذربائیجان کی خاتون ڈیانا نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے نئے ویڈیو بیان میں احمد تنویر کو بے قصور قرار دے دیا۔
ڈیانا نے کہا کہ احمد تنویر نے ان کے ساتھ کسی قسم کی زیادتی نہیں کی اور انہیں سمجھ نہیں آرہا کہ پولیس نے اسے کس بنیاد پر گرفتار کیا ہے۔
خاتون نے مقدمے میں نامزد دیگر دو ملزمان، محسن اور عزیر، کو بھی معاف کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس معاملے کو مزید آگے نہیں بڑھانا چاہتیں۔
تاہم پولیس نے خاتون کے نئے ویڈیو بیان سے متعلق مختلف مؤقف اختیار کیا ہے۔
ڈی آئی جی ذیشان رضا کے مطابق متاثرہ خاتون کا سوشل میڈیا پر بیان ریکارڈ کروا کر مقدمے کی تفتیش پر اثرانداز ہونے کی کوشش کی جارہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ خاتون کا بیان پہلے ہی ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت عدالت میں ریکارڈ ہوچکا ہے۔
ڈی آئی جی کے مطابق خاتون نے اپنے عدالتی بیان میں تین ملزمان پر مبینہ زیادتی کا الزام عائد کیا تھا۔
ذیشان رضا نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ گرفتار دو ملزمان تیسرے ملزم احمد تنویر کے ملوث ہونے کا اعتراف کرچکے ہیں۔
دریں اثنا مبینہ زیادتی کے مقدمے میں احمد تنویر کی عبوری ضمانت میں 27 اکتوبر تک توسیع کردی گئی ہے۔
عدالتی کارروائی کے دوران احاطہ عدالت میں پولیس اہلکاروں اور ملزم کے ساتھیوں کے درمیان تلخ کلامی اور دھکم پیل بھی ہوئی۔
اس دوران پولیس نے احمد تنویر اور اس کے ساتھیوں کو تھانے منتقل کردیا، جبکہ دفاعی وکیل کا کہنا تھا کہ ضمانت ملنے کے باوجود ان کے مؤکل کو حراست میں لیا گیا۔
مبینہ زیادتی کے مقدمے میں خاتون کے نئے ویڈیو بیان، اس سے قبل ریکارڈ ہونے والے عدالتی بیان اور پولیس کے مؤقف میں اختلاف سامنے آیا ہے، جبکہ اغوا اور تشدد کے نئے مقدمے میں شناخت پریڈ سے متعلق عدالتی فیصلہ بھی محفوظ ہے۔
احمد تنویر اور دیگر نامزد افراد کے خلاف الزامات کی قانونی حیثیت اور ذمہ داری کا حتمی تعین عدالتی کارروائی کے بعد ہوگا۔