مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی سے تیل مہنگا، برینٹ 116 ڈالر سے تجاوز، چھ ماہ کی بلند ترین سطح پر
مشرقِ وسطیٰ میں توانائی کی ترسیل متاثر ہونے کے خدشات اور سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوگیا۔ برینٹ خام تیل کی قیمت 116 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگئی، جبکہ کاروبار کے دوران قیمت تقریباً چھ ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔ متحدہ عرب امارات میں تیل کے اخراج کی اطلاعات نے بھی عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی۔
برطانوی خبر ایجنسی کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے ممکنہ خطرات کے باعث عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں تیزی دیکھی گئی۔
برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودوں کی قیمت میں 3.18 ڈالر، یعنی 2.81 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد برینٹ کی قیمت 116.35 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔
کاروباری سیشن کے دوران برینٹ خام تیل کی قیمت 117.45 ڈالر فی بیرل تک بھی پہنچ گئی، جو اپریل کے اواخر کے بعد بلند ترین اور تقریباً چھ ماہ کی سب سے زیادہ سطح ہے۔
دوسری جانب امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل کی قیمت میں بھی نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
ڈبلیو ٹی آئی کی قیمت 3.50 ڈالر، یعنی 3.52 فیصد بڑھ کر 102.97 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔
رپورٹ کے مطابق سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں کے بعد خطے میں تیل کی ترسیل اور سپلائی متاثر ہونے کے خدشات بڑھ گئے، جبکہ متحدہ عرب امارات میں تیل کے اخراج کی اطلاع نے عالمی منڈی میں غیر یقینی صورتحال میں مزید اضافہ کیا۔
مشرقِ وسطیٰ میں توانائی کی ترسیل کے حوالے سے پیدا ہونے والی تشویش کو خام تیل کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کی اہم وجہ قرار دیا جارہا ہے۔