پنشن کوئی خیرات،رعایت یا عطیہ نہیں،ملازم کا قانونی اورآئینی حق ہے،اسلام آباد ہائیکورٹ
اسلام آباد ہائیکورٹ نے تقریباً 30 سال سرکاری ملازمت کرنے والے ریٹائرڈ ملازم کو پنشن اور دیگر واجبات کی عدم ادائیگی کے خلاف درخواست پر اہم فیصلہ سناتے ہوئے وزارتِ خزانہ اور تمام متعلقہ حکام کو 30 روز کے اندر پنشن اور ریٹائرمنٹ کی تمام مراعات جاری کرنے کا حکم دے دیا۔ عدالت نے واضح کیا کہ پنشن کوئی خیرات، رعایت یا عطیہ نہیں بلکہ ملازم کا قانونی اور آئینی حق ہے۔
جسٹس شاہ رخ ارجمند نے ریٹائرڈ سرکاری ملازم نوید اللہ کی درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا کہ پنشن ملازم کی دورانِ ملازمت انجام دی گئی خدمات کا مؤخر شدہ معاوضہ ہے، جس کا مقصد بڑھاپے میں اسے مالی تحفظ فراہم کرنا ہے۔
عدالت نے وزارتِ خزانہ اور دیگر متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ فیصلے کی تصدیق شدہ نقل موصول ہونے کے 30 دن کے اندر تمام ضروری کارروائی مکمل کرکے درخواست گزار کی پنشن اور دیگر ریٹائرمنٹ واجبات ادا کیے جائیں۔
مقدمے کی سماعت کے دوران وزارتِ خزانہ نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ درخواست گزار کی 2008 میں کنٹریکٹ بنیادوں پر ہونے والی تعیناتی فیڈرل پبلک سروس کمیشن (ایف پی ایس سی) کے ذریعے نہیں کی گئی تھی۔
تاہم عدالت نے اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ بھرتی کا طریقہ کار طے کرنا اور متعلقہ معاملہ ایف پی ایس سی کو بھجوانا سرکاری ادارے کی ذمہ داری تھی۔
عدالت کے مطابق اگر متعلقہ ادارے نے بھرتی کے طے شدہ طریقہ کار پر عمل نہیں کیا تو اس کوتاہی کی سزا ملازم کو نہیں دی جاسکتی۔
جسٹس شاہ رخ ارجمند نے مزید قرار دیا کہ تقریباً دو دہائیوں تک ملازم کی خدمات تسلیم کرنے کے بعد ریٹائرمنٹ کے موقع پر اس کی پنشن روکنا غیرقانونی ہے۔
عدالت نے حکام کو ہدایت کی کہ درخواست گزار کی ملازمت کی کنفرمیشن، ریگولرائزیشن اور گریڈ 17 کی منظوری سے متعلق تمام احکامات کو مدنظر رکھتے ہوئے پنشن کیس کو حتمی شکل دی جائے۔
مقدمے کے ریکارڈ کے مطابق درخواست گزار نوید اللہ نے 28 مئی 1995 کو وزارتِ خوراک و زراعت میں گریڈنگ انسپکٹر، بی ایس 13، کی حیثیت سے سرکاری ملازمت شروع کی تھی۔
بعد ازاں 16 اگست 1997 کو ان کی ملازمت مستقل کردی گئی۔
اٹھارہویں آئینی ترمیم کے تحت وزارتوں کی تحلیل اور انتظامی تبدیلیوں کے بعد انہیں سینٹرل ڈائریکٹوریٹ آف نیشنل سیونگز میں منتقل کردیا گیا۔
کابینہ کی ذیلی کمیٹی کے فیصلے کی روشنی میں 2012 میں ان کی ملازمت ریگولرائز کی گئی، جبکہ 2015 میں انہیں نیشنل سیونگز میں ضم کردیا گیا۔
نوید اللہ تقریباً 30 سال کی سرکاری سروس مکمل کرنے کے بعد 22 اپریل 2025 کو ریٹائرمنٹ کی عمر کو پہنچے، تاہم انہیں پنشن اور دیگر واجبات ادا نہیں کیے گئے۔
ریٹائرمنٹ کے بعد قانونی حق سے محروم رہنے پر انہوں نے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کیا۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ سرکاری اداروں کی انتظامی یا بھرتی سے متعلق کوتاہیوں کو بنیاد بنا کر کسی ملازم کو اس کی برسوں کی خدمات کے عوض حاصل ہونے والی پنشن سے محروم نہیں رکھا جاسکتا۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے وزارتِ خزانہ اور متعلقہ حکام کو حکم دیا ہے کہ درخواست گزار کی پنشن اور تمام ریٹائرمنٹ مراعات کی ادائیگی کا عمل تصدیق شدہ فیصلے کی نقل ملنے کے 30 دن کے اندر مکمل کیا جائے۔