Pakistan

سکوٹی سوار لڑکی پر تشدد کرنے والے ملزم کی ضمانت منظور

سکوٹی سوار لڑکی پر تشدد کرنے والے ملزم کی ضمانت منظور
۱ منٹ پہلے

لاہور کے علاقے مزنگ لنک روڈ پر سکوٹی سوار لڑکی کو مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنانے کے مقدمے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ عدالت نے گرفتار ملزم غلام مصطفیٰ کی ضمانت منظور کرتے ہوئے اسے ایک لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض رہا کرنے کا حکم دے دیا ہے، تاہم رہائی اس شرط سے مشروط ہے کہ ملزم کسی دوسرے فوجداری مقدمے میں مطلوب نہ ہو۔ 

عدالت میں سماعت کے دوران پولیس نے ملزم غلام مصطفیٰ کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کی استدعا کی تھی، تاہم عدالت نے ملزم کی ضمانت منظور کرلی۔ 

عدالت نے حکم دیا کہ ایک لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کرانے کے بعد ملزم کو رہا کردیا جائے، بشرطیکہ وہ کسی اور کرمنل مقدمے میں مطلوب نہ ہو۔ 

واضح رہے کہ 22 اکتوبر کی شام لاہور کے علاقے مزنگ لنک روڈ پر موٹرسائیکل سوار شخص نے مبینہ طور پر اسکوٹی پر سفر کرنے والی لڑکی کا راستہ روک کر اسے تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔ 

واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا جاسکتا ہے کہ موٹرسائیکل سوار نے پہلے لڑکی کی اسکوٹی کو اوورٹیک کیا، پھر آگے موٹرسائیکل کھڑی کرکے اس کا راستہ روک لیا۔ 

فوٹیج کے مطابق ملزم نے موٹرسائیکل سے اتر کر لڑکی کو پکڑا اور زمین پر پٹخ دیا۔ 

الزام ہے کہ لڑکی کے زمین پر گرنے کے باوجود ملزم نے اسے مسلسل تھپڑ مارے، بال کھینچے، گالم گلوچ کی اور ہراساں کیا۔ 

واقعے کے دوران ملزم نے لڑکی کا بیگ بھی چھین کر زمین پر دے مارا، جس کے نتیجے میں بیگ میں موجود لیپ ٹاپ ٹوٹ گیا۔ 

تشدد کے باعث لڑکی کی ناک کی ہڈی ٹوٹ گئی، جبکہ اس کے چہرے پر بھی زخم آئے۔ 

ذرائع کے مطابق واقعے سے قبل موٹرسائیکل سوار کو بروقت راستہ نہ ملنے پر دونوں کے درمیان تلخ کلامی ہوئی تھی۔ 

بتایا گیا ہے کہ اسی تلخ کلامی کے بعد موٹرسائیکل سوار نے آگے جاکر لڑکی کا راستہ روکا اور مبینہ طور پر تشدد شروع کردیا۔ 

واقعے کا مقدمہ تھانہ مزنگ میں درج کیا گیا تھا، جس کے بعد پولیس نے ملزم غلام مصطفیٰ کو گرفتار کرلیا تھا۔ 

اب عدالت نے ملزم کی ضمانت منظور کرتے ہوئے ایک لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض رہائی کا حکم جاری کردیا ہے۔ تاہم ضمانت کی منظوری کا مطلب الزامات سے بریت نہیں، اور مقدمے کی قانونی کارروائی اپنی جگہ برقرار ہے۔

مزید خبروں اور دلچسپ ویڈیوز کے لیے ہمارے ساتھ شامل ہوں