Breaking News

آذربائیجانی لڑکی ڈیانا نے 2 کروڑ لے کر ملزمان کو بے گناہ قرار دینے کا بیان دیا،لاہور پولیس

آذربائیجانی لڑکی ڈیانا نے 2 کروڑ لے کر ملزمان کو بے گناہ قرار دینے کا بیان دیا،لاہور پولیس
۱ منٹ پہلے

لاہور میں آذربائیجان کی خاتون سے مبینہ زیادتی کے مقدمے میں نیا موڑ سامنے آگیا ہے۔ پولیس ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ متاثرہ خاتون ڈیانا نے مبینہ طور پر 2 کروڑ روپے وصول کرنے کے بعد ملزمان کو بے گناہ قرار دینے کا ویڈیو بیان جاری کیا، تاہم ملزم احمد تنویر کے وکیل نے خاتون کو رقم دینے اور اس سے رابطہ کرنے کے الزامات کی تردید کردی ہے۔ 

پولیس ذرائع کے مطابق مقدمے میں نامزد احمد تنویر کا تعلق ایک بااثر اور دولت مند خاندان سے ہے، جبکہ اس کے والد بڑے کنٹریکٹر ہیں۔ 

ذرائع نے الزام عائد کیا کہ احمد تنویر کے رشتے دار خاتون ڈیانا کے ساتھ مسلسل ٹیلی فون پر رابطے میں رہے اور انہیں ملزمان کے حق میں بیان دینے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی گئی۔ 

پولیس ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ملزمان کے ایک وکیل اور اہل خانہ نے بھی ڈیانا سے فون پر رابطہ کیا اور انہیں اپنا سابقہ مؤقف تبدیل کرنے پر قائل کیا۔ 

ذرائع کے مطابق خاتون کی مبینہ آمادگی کے بعد احمد تنویر کے والد لندن سے آذربائیجان گئے۔ 

پولیس ذرائع نے مزید دعویٰ کیا کہ ڈیانا نے پاکستانی کرنسی میں 2 کروڑ روپے وصول کرنے کے بعد ملزمان کو بے گناہ قرار دینے کا ویڈیو بیان جاری کیا۔ 

ذرائع کا کہنا ہے کہ خاتون مبینہ رقم وصول کرنے کے بعد اس وقت دبئی میں موجود ہیں۔ 

دوسری جانب احمد تنویر کے وکیل صفدر شاہین نے ان الزامات کو مسترد کردیا ہے۔ 

وکیل کا کہنا ہے کہ وہ نہ آذربائیجان گئے اور نہ ہی انہوں نے ڈیانا سے ٹیلی فون پر کوئی بات کی۔ 

صفدر شاہین نے واضح کیا کہ غیر ملکی خاتون کو اپنا بیان تبدیل کرنے کے لیے کوئی رشوت نہیں دی گئی۔ 

پولیس ذرائع کے مطابق ڈیانا نے اس سے قبل ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت عدالت میں ریکارڈ کروائے گئے بیان میں تین ملزمان پر مبینہ زیادتی کا الزام عائد کیا تھا۔ 

تاہم بعد میں خاتون نے اپنے سابقہ مؤقف سے ہٹ کر ایک ویڈیو بیان جاری کیا، جس میں ملزمان کو بے قصور قرار دیا گیا۔ 

ڈیانا نے اپنے نئے ویڈیو بیان میں یہ دعویٰ بھی کیا کہ انہوں نے پہلے والا بیان دباؤ کے تحت دیا تھا۔ 

خاتون کے عدالتی بیان اور بعد میں جاری ہونے والی ویڈیو میں تضاد کے بعد مقدمے میں مزید سوالات سامنے آگئے ہیں۔ 

واضح رہے کہ 2 کروڑ روپے کی مبینہ ادائیگی، ٹیلی فونک رابطوں اور سفری تفصیلات سے متعلق دعوے پولیس ذرائع سے منسوب ہیں، جبکہ فراہم کردہ رپورٹ میں ان کی آزادانہ تصدیق یا رقم کی منتقلی کے شواہد پیش نہیں کیے گئے۔ 

ملزمان کے خلاف اصل مقدمے اور خاتون کے بیانات میں تبدیلی کے حالات کا حتمی تعین مزید تحقیقات اور عدالتی کارروائی کے ذریعے ہوگا۔

مزید خبروں اور دلچسپ ویڈیوز کے لیے ہمارے ساتھ شامل ہوں