Pakistan

ایمان مزاری کا دفعہ 342 کا بیان ریکارڈ کرانے سے انکار

ایمان مزاری کا دفعہ 342 کا بیان ریکارڈ کرانے سے انکار
۱ منٹ پہلے

راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی عدالت میں کارِ سرکار میں مداخلت اور بیریئر ہٹانے کے مقدمے کی سماعت کے دوران ایمان مزاری اور ہادی علی نے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 342 کے تحت بیان ریکارڈ کرانے سے انکار کردیا۔

 

 عدالت نے دونوں ملزمان کو آئندہ سماعت پر بیان ریکارڈ کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے کارروائی 26 اکتوبر تک ملتوی کردی۔ 

انسداد دہشت گردی عدالت راولپنڈی کے جج طاہر عباس سپرا نے ایمان مزاری اور ہادی علی کے خلاف مقدمے کی سماعت اڈیالہ جیل میں کی۔ 

دورانِ سماعت دونوں ملزمان نے دفعہ 342 کے تحت اپنے بیانات ریکارڈ نہیں کرائے۔ 

ہادی علی نے عدالت سے کہا کہ ان کی جگہ سرکاری وکیل ہی بیان ریکارڈ کرادے۔ 

اس پر جج طاہر عباس سپرا نے واضح کیا کہ دفعہ 342 کا بیان عدالت اور ملزم کے درمیان براہِ راست ہوتا ہے، اس لیے ملزمان کو خود ہی سوالات کے جواب دینا ہوں گے۔ 

جج کے ریمارکس پر ایمان مزاری نے کہا کہ وہ دفعہ 342 کا بیان ریکارڈ نہیں کرائیں گے۔ 

عدالت نے دونوں کو آئندہ سماعت پر اپنے بیانات ریکارڈ کرانے کی ہدایت کی۔ 

جج طاہر عباس سپرا نے کہا کہ اگر ملزمان دفعہ 342 کے سوالات کے جواب نہیں دیتے تو عدالتی حکم میں یہی درج کیا جائے گا کہ انہوں نے سوالات کے جواب نہیں دیے۔ 

بعد ازاں عدالت نے مقدمے کی مزید سماعت 26 اکتوبر تک ملتوی کردی۔ 

واضح رہے کہ دفعہ 342 کے تحت ملزم کو مقدمے میں اس کے خلاف پیش کیے گئے شواہد کے بارے میں اپنا مؤقف بیان کرنے اور وضاحت دینے کا موقع فراہم کیا جاتا ہے۔ 

ایمان مزاری اور ہادی علی کے خلاف زیرِ سماعت مقدمہ کارِ سرکار میں مبینہ مداخلت اور بیریئر ہٹانے کے الزامات سے متعلق ہے۔

مزید خبروں اور دلچسپ ویڈیوز کے لیے ہمارے ساتھ شامل ہوں