لاہور میں پیٹرول پمپ ملازم پر تشدد کا کیس،راضی نامے کے بعد ملزم رہا
لاہور میں پیٹرول پمپ کے ملازم پر مبینہ تشدد کے مقدمے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ عدالت نے مدعی اور گرفتار ملزم سعادت انیس کے درمیان راضی نامہ ہونے کے بعد پولیس کی جسمانی ریمانڈ کی درخواست مسترد کرتے ہوئے ملزم کو مقدمے سے ڈسچارج کرکے رہا کرنے کا حکم دے دیا۔
جوڈیشل مجسٹریٹ محمد علی امجد نے مقدمے سے متعلق تحریری فیصلہ جاری کردیا، جس میں مدعی کے بیان اور فریقین کے درمیان ہونے والے راضی نامے کو بنیاد بنایا گیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق مدعی نے عدالت میں بیان دیا کہ واقعہ غلط فہمی کی بنیاد پر پیش آیا تھا اور اب اس کا ملزم سعادت انیس کے ساتھ راضی نامہ ہوچکا ہے۔
مدعی نے مزید کہا کہ وہ اس مقدمے میں مزید قانونی کارروائی نہیں چاہتا۔
دورانِ سماعت پولیس نے گرفتار ملزم سعادت انیس سے مزید تفتیش کے لیے 10 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی تھی۔
تاہم عدالت نے راضی نامہ ہونے اور مدعی کی جانب سے مزید کارروائی نہ چاہنے کے مؤقف کو مدنظر رکھتے ہوئے پولیس کی جسمانی ریمانڈ کی درخواست مسترد کردی۔
جوڈیشل مجسٹریٹ محمد علی امجد نے اپنے تحریری فیصلے میں سعادت انیس کو مقدمے سے ڈسچارج کرکے رہا کرنے کا حکم جاری کیا۔
واضح رہے کہ پیٹرول پمپ کے ملازم پر مبینہ تشدد کے واقعے کا مقدمہ لاہور کے تھانہ چوہنگ میں درج کیا گیا تھا۔
عدالت کے فیصلے کے بعد ملزم کی رہائی کا حکم جاری کردیا گیا ہے۔