سرگودھا: سکول میں بچوں سے جنسی زیادتی کے الزام میں سرکاری ٹیچر کے خلاف ایک اور مقدمہ درج
سرگودھا کے سرکاری سکول میں بچوں سے مبینہ جنسی زیادتی، نازیبا ویڈیوز بنانے اور بلیک میلنگ کے مقدمے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ پولیس نے انگلش ٹیچر صفدر عباس کے خلاف ایک اور مقدمہ درج کرلیا، جس کے بعد مقدمات کی تعداد دو ہوگئی ہے۔ دوسری جانب مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے ملزم کا لیپ ٹاپ قبضے میں لے لیا ہے، جبکہ موبائل فون اور کمپیوٹر کی فرانزک جانچ کے ساتھ ڈی این اے ٹیسٹ کا عمل بھی جاری ہے۔
پولیس کے مطابق انگلش ٹیچر صفدر عباس کے خلاف دوسرا مقدمہ تھانہ عطا شہید میں علی خان کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے۔
ایف آئی آر کے مطابق ملزم پر الزام ہے کہ وہ ایک 13 سالہ طالب علم کو متعدد مرتبہ مبینہ جنسی زیادتی کا نشانہ بناتا رہا، جبکہ آخری مبینہ واقعہ 15 اکتوبر کو پیش آیا۔
متاثرہ بچے کے والد نے اپنے بیان میں بتایا کہ ان کا بیٹا خوف کے باعث اس معاملے پر خاموش رہا۔
والد کے مطابق جب انگلش ٹیچر کے خلاف پہلے مقدمے کی اطلاعات سامنے آئیں تو انہوں نے اپنے بیٹے سے پوچھ گچھ کی، جس کے دوران مبینہ زیادتی کا انکشاف ہوا۔
دوسری جانب کیس کی تحقیقات کے لیے قائم مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے انگلش ٹیچر صفدر عباس کا لیپ ٹاپ قبضے میں لے لیا ہے۔
حکام کے مطابق ملزم کے موبائل فون اور کمپیوٹر کی فرانزک جانچ بھی کی جارہی ہے تاکہ مقدمے سے متعلق ممکنہ شواہد حاصل کیے جاسکیں۔
پولیس نے بتایا کہ مبینہ زیادتی کے مقدمے میں دو متاثرہ بچوں اور تینوں ملزمان کے ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے نمونے حاصل کرلیے گئے ہیں۔
حکام کے مطابق تمام ڈی این اے نمونے جانچ کے لیے متعلقہ لیبارٹری بھجوا دیے گئے ہیں، جبکہ پولیس کی جانب سے مزید شواہد اکٹھے کرنے کا عمل جاری ہے۔
پولیس نے مزید بتایا کہ بچوں کی مبینہ نازیبا ویڈیوز بنانے اور ان کے ذریعے بلیک میلنگ کرنے کے الزامات کی بھی تحقیقات کی جارہی ہیں۔
حکام کے مطابق مقدمات میں سامنے آنے والے الزامات، فرانزک شواہد اور ڈی این اے رپورٹس کی روشنی میں مزید تفتیش کی جائے گی۔ ملزمان کے خلاف الزامات کا حتمی تعین قانونی اور عدالتی کارروائی کے ذریعے ہوگا۔