کوٹ ادو میں 3 سالہ بچی سے مبینہ زیادتی کا ملزم 2 گھنٹے کے اندر گرفتار
پنجاب کے ضلع کوٹ ادو میں 3 سالہ بچی سے مبینہ جنسی زیادتی کے الزام میں ایک شخص کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے مطابق پولیس نے سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے ملزم کا سراغ لگایا اور اسے 2 گھنٹے کے اندر گرفتار کرلیا۔ واقعے کا مقدمہ متاثرہ بچی کے والد کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق گرفتار ملزم علاقے میں سبزی کی ریڑھی لگاتا تھا اور اس پر الزام ہے کہ وہ 3 سالہ بچی کو بہلا پھسلا کر اپنے ساتھ لے گیا، جہاں اسے مبینہ جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔
پولیس نے بتایا کہ واقعہ تحصیل چوک سرور شہید کے چک 571 ٹی ڈی اے میں پیش آیا، جبکہ متعلقہ مقدمہ متاثرہ بچی کے والد کی مدعیت میں درج کیا گیا۔
ایف آئی آر کے مطابق بچی اپنے گھر سے کھیلنے کے لیے نکلی تھی، تاہم کافی دیر گزرنے کے باوجود واپس نہیں آئی۔
بچی کے گھر واپس نہ پہنچنے پر والدین نے اس کی تلاش شروع کردی۔
مدعی مقدمہ کے مطابق تلاش کے دوران ایک گھر کے باہر سے بچی کے رونے کی آواز سنائی دی، جس پر اہلِ خانہ فوری طور پر اس مقام پر پہنچے۔
ایف آئی آر میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ جب والدین موقع پر پہنچے تو ملزم بچی کو مبینہ جنسی زیادتی کا نشانہ بنا رہا تھا۔
مدعی کے مطابق والدین کو دیکھتے ہی ملزم موقع سے فرار ہوگیا، جس کے بعد پولیس کو واقعے کی اطلاع دی گئی۔
پولیس نے مقدمہ درج کرنے کے بعد ملزم کی شناخت اور گرفتاری کے لیے کارروائی شروع کی۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے سوشل میڈیا پر گرفتار ملزم کی تصویر شیئر کرتے ہوئے واقعے کی شدید مذمت کی۔
مریم نواز نے ملزم کی عمر اور اس پر عائد الزام کا حوالہ دیتے ہوئے واقعے کو دل دہلا دینے والا قرار دیا۔
وزیراعلیٰ پنجاب کے مطابق پولیس نے سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے ملزم کی نقل و حرکت کا سراغ لگایا اور اسے صرف 2 گھنٹے میں گرفتار کرلیا۔
ملزم کی گرفتاری کے بعد مقدمے میں مزید تفتیش اور قانونی کارروائی کی جائے گی، جبکہ اس کے خلاف عائد الزامات کا حتمی فیصلہ عدالت میں شواہد کی بنیاد پر ہوگا۔