مصری پارلیمان نے سعودی عرب کے دفاع کے لیے فوجی مدد کی منظوری دے دی
مصر کی پارلیمان نے سعودی عرب کے دفاع کے لیے مصری فوج کو مدد فراہم کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ یہ فیصلہ یمنی حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب پر حملوں میں اضافے اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران سامنے آیا ہے۔ تاہم مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے واضح کیا ہے کہ مصر کی ممکنہ فوجی معاونت صرف سعودی عرب کی سرزمین اور سرحدوں کے دفاع تک محدود ہوگی اور اس میں یمن کے خلاف حملے شامل نہیں ہوں گے۔
رپورٹ کے مطابق مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے گزشتہ ہفتے پارلیمان سے درخواست کی تھی کہ وہ حوثیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے عرب اتحاد کی جانب سے موصول ہونے والی فوجی مدد کی درخواست منظور کرے۔
مصری پارلیمان نے صدر کی درخواست کی منظوری دیتے ہوئے سعودی عرب کے دفاع کے لیے ملک کی مسلح افواج کو معاونت فراہم کرنے کی اجازت دے دی۔
اس فیصلے کے بعد مصر کے خطے میں جاری تنازع میں زیادہ براہِ راست کردار ادا کرنے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، تاہم مجوزہ فوجی تعاون کی حدود دفاعی نوعیت کی رکھی گئی ہیں۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب یمنی حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب پر حملوں میں اضافہ ہوا ہے اور علاقائی سلامتی سے متعلق خدشات بڑھ رہے ہیں۔
مصر اس سے قبل ایران اور اس کے حمایت یافتہ گروہوں کی جانب سے خلیجی ممالک پر حملوں کی متعدد مرتبہ مذمت کرچکا ہے، لیکن اب تک اس نے براہِ راست لڑائی میں حصہ نہیں لیا۔
پارلیمانی منظوری سے قبل قاہرہ اور ریاض کے درمیان اہم سفارتی رابطے بھی ہوئے تھے۔
گزشتہ بدھ کو مصر کے وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی اور انٹیلی جنس ادارے کے سربراہ حسن رشاد نے سعودی دارالحکومت ریاض کا دورہ کیا تھا۔
اس دورے کے دوران دونوں اعلیٰ مصری حکام نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کو صدر عبدالفتاح السیسی کا خصوصی خط پہنچایا۔
خط میں مصری صدر نے سعودی عرب کی سلامتی کے لیے اپنے ملک کی حمایت کے دائرہ کار کی وضاحت کی تھی۔
عبدالفتاح السیسی نے واضح کیا کہ مصر کی جانب سے فوجی تعاون صرف سعودی عرب کی سرزمین اور سرحدوں کے دفاع تک محدود ہوگا اور اس میں یمن کے اندر فوجی حملے شامل نہیں ہوں گے۔
سعودی ولی عہد سے ملاقات کے بعد مصری وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی نے کہا کہ قاہرہ یمن کے تنازع کو سفارتی ذرائع سے حل کرنے کے لیے تمام دستیاب مواقع سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے۔
ان کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ مصر سعودی عرب کے دفاع میں معاونت کے ساتھ یمن میں جاری تنازع کے سیاسی اور سفارتی حل کی کوششیں بھی جاری رکھنا چاہتا ہے۔
مصری پارلیمان کا یہ فیصلہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران سعودی عرب کے ساتھ دفاعی تعاون کی ایک اہم پیش رفت ہے، تاہم مصر نے اپنے ممکنہ کردار کو سعودی سرزمین کے دفاع تک محدود رکھنے کا مؤقف اختیار کیا ہے۔
فراہم کردہ رپورٹ میں مصری فوجیوں کی تعداد، فوجی معاونت کی نوعیت یا ممکنہ تعیناتی کی تاریخ نہیں بتائی گئی۔ پارلیمان کی منظوری سے یہ بھی ثابت نہیں ہوتا کہ مصری افواج عملی طور پر لڑائی میں شامل ہوچکی ہیں۔