World

چرچ حملے کے جواب میں اردن کے جنوبی شام پر فضائی حملے

چرچ حملے کے جواب میں اردن کے جنوبی شام پر فضائی حملے
۱ منٹ پہلے

اردن کی فوج نے جنوبی شام میں مبینہ دہشت گرد تنظیموں کے ٹھکانوں پر فضائی حملوں کا اعلان کردیا ہے۔ اردنی حکام کے مطابق یہ کارروائی جنوبی صوبے کرک کے ایک چرچ پر ہونے والے حملے کے جواب میں کی گئی، جس میں 9 افراد ہلاک اور تقریباً 40 زخمی ہوئے تھے۔ اردنی فوج کا کہنا ہے کہ فضائی کارروائی سے قبل دمشق میں شامی حکام کو اعتماد میں لیا گیا تھا۔ 

اردن کی مسلح افواج کے مطابق پیر کو رائل اردنین ایئر فورس کے لڑاکا طیاروں نے جنوبی شام میں مبینہ عسکریت پسندوں کے متعدد ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ 

فوجی حکام نے بتایا کہ یہ کارروائی کرک کے گاؤں حمود میں واقع چرچ پر ہونے والے حملے کے متاثرین کے لیے جوابی اقدام کے طور پر کی گئی۔ 

واضح رہے کہ حمود گاؤں کے چرچ پر تین مسلح افراد نے حملہ کیا تھا، جس کے نتیجے میں 9 افراد ہلاک جبکہ تقریباً 40 افراد زخمی ہوئے تھے۔ 

اردنی فوج کے مطابق جنوبی شام میں کیے گئے فضائی آپریشن کو ’اردنین ڈیٹرنس – حمود‘ کا نام دیا گیا ہے، جو اس گاؤں سے منسوب ہے جہاں چرچ پر حملہ ہوا تھا۔ 

فوج کے بیان میں الزام عائد کیا گیا کہ چرچ حملے میں ملوث افراد کا تعلق دہشت گرد تنظیموں سے تھا۔ 

اردنی حکام کے مطابق فضائی کارروائی سے پہلے شامی دارالحکومت دمشق میں متعلقہ حکام کو اعتماد میں لیا گیا تھا۔ 

فوجی بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ رائل ایئر فورس کے لڑاکا طیاروں نے جنوبی شام میں عسکریت پسندوں کے متعدد ٹھکانوں پر حملے کیے اور انہیں تباہ کردیا۔ 

اردنی فوج کے مطابق ان حملوں میں کئی مبینہ عسکریت پسند ہلاک یا زخمی ہوئے، جبکہ ان کے زیر استعمال متعدد گاڑیاں بھی تباہ ہوگئیں۔ 

حکام نے فضائی کارروائی کو کرک چرچ حملے کا جواب قرار دیا، تاہم نشانہ بنائی گئی تنظیموں کی شناخت اور فضائی حملوں میں ہونے والے جانی نقصان کی درست تعداد فراہم نہیں کی گئی۔ 

اردنی فوج کی جانب سے ٹھکانوں کی تباہی اور عسکریت پسندوں کی ہلاکتوں سے متعلق دعوؤں کی فراہم کردہ معلومات میں آزادانہ تصدیق موجود نہیں ہے۔

مزید خبروں اور دلچسپ ویڈیوز کے لیے ہمارے ساتھ شامل ہوں