فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی فوجی کارروائیاں جنگی اورانسانیت کے خلاف جرائم ہیں،اقوام متحدہ
اقوامِ متحدہ کے آزادانہ بین الاقوامی تحقیقاتی کمیشن نے اپنی نئی رپورٹ میں غزہ، مقبوضہ بیت المقدس اور مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی فوج کی کارروائیوں کو جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم قرار دیتے ہوئے سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ تحقیقاتی کمیشن کے مطابق جنگ بندی کے باوجود غزہ میں ایسے اقدامات جاری ہیں جنہیں کمیشن نے نسل کشی قرار دیا ہے، جبکہ مغربی کنارے میں فضائی حملوں، فلسطینیوں کی جبری بے دخلی اور مبینہ منظم تشدد میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
اقوامِ متحدہ کے آزادانہ بین الاقوامی تحقیقاتی کمیشن نے اکتوبر 2023 سے فلسطینی علاقوں میں جاری اسرائیلی فوجی کارروائیوں اور انسانی حقوق کی صورتحال سے متعلق اپنی پانچویں رپورٹ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں جمع کرادی ہے۔
رپورٹ کے مطابق کمیشن نے غزہ، مقبوضہ بیت المقدس اور مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینی شہریوں کے خلاف دانستہ اجتماعی قتل، ظلم و ستم، تشدد، جنسی زیادتی اور دیگر جنسی تشدد کے واقعات کو جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے طور پر بیان کیا ہے۔
تحقیقاتی کمیشن نے الزام عائد کیا کہ اسرائیلی فوج کی کارروائیوں میں فلسطینی شہریوں، خصوصاً بچوں، کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا جارہا ہے۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ غزہ میں جنگ بندی کے باوجود فلسطینیوں کے خلاف ایسے اقدامات جاری ہیں جنہیں کمیشن نے نسل کشی سے تعبیر کیا ہے۔
اقوامِ متحدہ کے تحقیقاتی کمیشن نے مقبوضہ مغربی کنارے میں بھی اسرائیلی فوج کی کارروائیوں اور فلسطینی شہریوں کے خلاف تشدد میں غیر معمولی اضافے کی نشاندہی کی ہے۔
رپورٹ میں فراہم کردہ اعدادوشمار کے مطابق اکتوبر 2023 سے ستمبر 2026 کے دوران مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فضائی حملوں کے نتیجے میں 254 فلسطینی ہلاک ہوئے۔
اس کے مقابلے میں کمیشن کے مطابق اس سے پہلے کے 15 برسوں کے دوران مغربی کنارے میں فضائی حملوں سے صرف 6 فلسطینیوں کی ہلاکت ریکارڈ کی گئی تھی۔
تحقیقاتی کمیشن نے ان اعدادوشمار کو مغربی کنارے میں فضائی کارروائیوں اور ان کے نتیجے میں ہونے والے جانی نقصان میں نمایاں اضافے کی علامت قرار دیا۔
رپورٹ میں اسرائیلی فوج اور اسرائیلی آبادکاروں پر فلسطینی آبادی کے خلاف منظم کارروائیاں کرنے کے الزامات بھی عائد کیے گئے ہیں۔
کمیشن کے مطابق فلسطینیوں کو ان کے گھروں اور علاقوں سے بے دخل کرنے کے لیے مختلف طریقے اختیار کیے گئے، جن میں مبینہ جنسی تشدد بھی شامل ہے۔
تحقیقاتی کمیشن نے الزام عائد کیا کہ فلسطینیوں کو بے گھر کرنے کی کارروائیوں کا مقصد ان کی زمینوں پر اسرائیلی کنٹرول اور قبضے کو مزید بڑھانا ہے۔
رپورٹ میں فلسطینی شہریوں کے ساتھ مبینہ سلوک کو بین الاقوامی انسانی حقوق اور جنگی قوانین کی سنگین خلاف ورزیوں کے تناظر میں پیش کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ جنگی جرائم، انسانیت کے خلاف جرائم اور نسل کشی سے متعلق یہ نتائج اقوامِ متحدہ کے تحقیقاتی کمیشن سے منسوب ہیں، جبکہ کسی فرد کی مجرمانہ ذمہ داری کا حتمی تعین متعلقہ عدالتی کارروائی سے ہوتا ہے۔
فراہم کردہ رپورٹس میں تحقیقاتی کمیشن کے ان تازہ الزامات پر اسرائیلی حکومت کا ردعمل شامل نہیں ہے۔