ایسے کپڑے بنائیں جو ہم پہن سکیں، عروب جتوئی نامناسب ملبوسات بنانے والے ڈیزائنرز پر برس پڑیں
معروف یوٹیوبر سعد الرحمٰن المعروف ڈکی بھائی کی اہلیہ اور سوشل میڈیا انفلوئنسر عروب جتوئی نے فیشن ڈیزائنرز پر زور دیا ہے کہ وہ ملبوسات تیار کرتے وقت عام لوگوں کی پسند، آرام اور روزمرہ ضروریات کو مدنظر رکھیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بعض فیشن ڈیزائنرز یہ سمجھتے ہیں کہ لباس جتنا زیادہ جسم کو نمایاں کرے گا، وہ اتنا ہی خوبصورت اور پُرکشش ہوگا، حالانکہ ان کے نزدیک حقیقت اس کے برعکس ہے۔
جدید فیشن کے رجحانات پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے عروب جتوئی نے کہا کہ بعض ڈیزائنرز کی توجہ ایسے ملبوسات تیار کرنے پر ہوتی ہے جن میں جسم زیادہ نمایاں ہو۔
انہوں نے اس سوچ سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ کسی لباس کی خوبصورتی کا معیار صرف جسم کو نمایاں کرنا نہیں ہونا چاہیے، بلکہ اسے پہننے والے افراد کی پسند اور سہولت کو بھی اہمیت دی جانی چاہیے۔
عروب جتوئی کا کہنا تھا کہ عوام کی 90 فیصد اکثریت ایسے ملبوسات نہیں پہنتی جو جسم کو نمایاں کرتے ہوں، اس لیے فیشن ڈیزائنرز کو عام لوگوں کی ضروریات سمجھنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ ڈیزائنرز کو ایسے لباس تیار کرنے پر توجہ دینی چاہیے جو آرام دہ ہوں اور جنہیں روزمرہ زندگی میں آسانی سے پہنا جاسکے۔
عروب جتوئی کے مطابق فیشن انڈسٹری کو صرف نت نئے رجحانات متعارف کرانے تک محدود نہیں رہنا چاہیے، بلکہ عام لوگوں کے طرزِ زندگی اور ذاتی ترجیحات کو بھی اہمیت دینی چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ اچھا لباس وہ ہے جو دیکھنے میں خوبصورت ہونے کے ساتھ پہننے والے کے لیے آرام دہ اور عملی استعمال کے لحاظ سے موزوں بھی ہو۔
انہوں نے فیشن ڈیزائنرز پر زور دیا کہ وہ ایسے ملبوسات متعارف کرائیں جو زیادہ سے زیادہ صارفین کی پسند اور ضروریات کے مطابق ہوں۔
عروب جتوئی کے اس بیان کے بعد سوشل میڈیا پر جدید فیشن، لباس کے انتخاب اور عوامی ترجیحات سے متعلق بحث شروع ہوگئی ہے۔