ٹک ٹاک نے دو گھر اجاڑ دیے، بھائیوں کے ہاتھوں 3 بہنوں سمیت 4 خواتین قتل
کراچی اور مریدکے میں ٹک ٹاک ویڈیوز بنانے اور استعمال کرنے کے تنازع پر دو الگ واقعات میں تین بہنوں اور ایک بھابھی سمیت چار خواتین کو مبینہ طور پر ان کے بھائیوں نے قتل کردیا۔ کراچی میں دو سگی بہنوں کو گھر کے اندر قتل کیا گیا، جبکہ مریدکے میں 16 سالہ لڑکی اور اسے بچانے کے لیے آگے آنے والی بھابھی فائرنگ سے جان کی بازی ہار گئیں۔ دونوں واقعات کے مرکزی ملزمان وارداتوں کے بعد فرار ہوگئے، جن کی گرفتاری کے لیے پولیس کارروائیاں کررہی ہے۔
کراچی میں دوہرے قتل کا واقعہ بدھ کے روز شاہ فیصل کالونی تھانے کی حدود میں واقع نیو رحمان آباد میں پیش آیا، جہاں دو سگی بہنوں کو ان کے گھر کے اندر نشانہ بنایا گیا۔
پولیس کے مطابق مقتول بہنوں کی شناخت 25 سالہ صبیحہ اور 20 سالہ حرا کے ناموں سے ہوئی ہے، جبکہ واردات میں ان کا اپنا بھائی ریحان مبینہ طور پر ملوث ہے۔
ایس ایس پی کورنگی فدا حسین جانوری نے بتایا کہ ابتدائی تفتیش کے دوران یہ بات سامنے آئی ہے کہ ملزم ریحان اپنی بہنوں کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹک ٹاک استعمال کرنے سے منع کرتا تھا۔
پولیس کو شبہ ہے کہ بہنوں کے ٹک ٹاک استعمال کرنے پر پیدا ہونے والی رنجش اور اختلافات دوہرے قتل کی ممکنہ وجہ بنے، تاہم واقعے کے تمام پہلوؤں کی تفتیش جاری ہے۔
ایس ایس پی کورنگی کے مطابق ملزم واردات کے بعد موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔ پولیس افسر نے یہ بھی انکشاف کیا کہ ریحان کا سابقہ مجرمانہ ریکارڈ موجود ہے اور وہ ماضی میں مختلف مقدمات میں گرفتار ہونے کے بعد جیل بھی جاچکا ہے۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور ریسکیو حکام نیو رحمان آباد میں متعلقہ گھر پہنچے اور دونوں مقتول بہنوں کی لاشیں تحویل میں لے لیں۔
لاشوں کو قانونی اور ضابطے کی کارروائی کے لیے جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر منتقل کردیا گیا، جبکہ پولیس نے مفرور ملزم کی تلاش شروع کردی۔
پولیس کی جانب سے ریحان کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جارہے ہیں تاکہ اسے گرفتار کرکے قانونی کارروائی آگے بڑھائی جاسکے۔
دوسری جانب پنجاب کے شہر مریدکے میں بھی ٹک ٹاک ویڈیو بنانے کے تنازع پر دو خواتین کے قتل کا واقعہ سامنے آیا، جہاں ایک بھائی نے مبینہ طور پر اپنی 16 سالہ بہن زینب اور اسے بچانے کے لیے آگے آنے والی بھابھی مریم کو گولیاں مار کر قتل کردیا۔
واقعے کی تفصیلات کے مطابق زینب کو ٹک ٹاک ویڈیوز بنانے کا شوق تھا، لیکن اس کا بڑا بھائی عدنان اسے مسلسل ویڈیوز بنانے سے منع کرتا تھا۔
زینب اپنے بھائی کو یہ کہہ کر مطمئن کرنے کی کوشش کرتی تھی کہ وہ صرف ویڈیوز بناتی ہے اور انہیں سوشل میڈیا پر اپ لوڈ نہیں کرتی۔
بھائی کی مخالفت کے باعث کچھ عرصے کے لیے زینب نے ویڈیوز بنانے کا سلسلہ روک دیا تھا، تاہم بعد میں اپنے چھوٹے بھائی عبدالرحمان کی سالگرہ کے موقع پر اس نے دوبارہ ایک ویڈیو بنائی۔
الزام ہے کہ عدنان نے زینب کو دوبارہ ٹک ٹاک ویڈیو بناتے دیکھا تو وہ شدید مشتعل ہوگیا اور اس نے پستول نکال کر اپنی بہن پر فائرنگ کردی۔
اس دوران زینب کی بھابھی مریم جھگڑا ختم کرانے اور اسے بچانے کے لیے آگے بڑھی، لیکن ملزم نے مبینہ طور پر مریم کو بھی گولیوں کا نشانہ بنا دیا۔
فائرنگ کے نتیجے میں 16 سالہ زینب اور اس کی بھابھی مریم دونوں موقع پر ہی جاں بحق ہوگئیں۔
دوہرے قتل کی واردات کے بعد مرکزی ملزم عدنان موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔
واقعے کے بعد پولیس نے مبینہ طور پر ملزم کے والد اور چھوٹے بھائی عبدالرحمان کو حراست میں لے لیا، جبکہ عدنان کی تلاش اور گرفتاری کے لیے کارروائیاں شروع کردی گئیں۔
کراچی کے واقعے میں پولیس نے مقتول بہنوں کے بھائی ریحان کو مرکزی ملزم نامزد کیا ہے، جبکہ مریدکے میں زینب اور مریم کے قتل کا الزام زینب کے بڑے بھائی عدنان پر عائد کیا گیا ہے۔
دونوں واقعات میں چار خواتین جان سے گئیں، جن میں کراچی کی 25 سالہ صبیحہ اور 20 سالہ حرا، جبکہ مریدکے کی 16 سالہ زینب اور اس کی بھابھی مریم شامل ہیں۔
پولیس دونوں وارداتوں کی الگ الگ تفتیش کررہی ہے اور مفرور ملزمان ریحان اور عدنان کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جارہے ہیں۔