World

عرب جماعتوں کے بغیر اسرائیلی حکومت سازی ناممکن،عربوں نے الیکشن چوری کیا، نیتن یاہو؛عرب اسرائیلی کون ہیں؟

عرب جماعتوں کے بغیر اسرائیلی حکومت سازی ناممکن،عربوں نے الیکشن چوری کیا، نیتن یاہو؛عرب اسرائیلی کون ہیں؟
۱ منٹ پہلے

اسرائیل کے انتخابات کے بعد بننے والے منظرنامے کے مطابق عرب جماعتوں کے بغیر نئی حکومت کی تشکیل ناممکن دکھائی دے رہی ہے۔ تاہم دونوں بڑے سیاسی اتحاد عرب جماعتوں کے ساتھ اتحاد کرنے سے کترا رہے ہیں۔

 

دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے عام انتخابات میں عرب جماعتوں پر مبینہ دھاندلی کے سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے مرکزی الیکشن کمیٹی، پولیس اور داخلی سلامتی کے ادارے شن بیت سے فوری تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ عربوں نے انتخابات چرائے ہیں۔

 

ووٹوں کی گنتی کے دوران نہ تو نیتن یاہو کا اتحاد اور نہ ہی سابق آرمی چیف گادی آئزنکوٹ کی قیادت میں اپوزیشن اتحاد واضح اکثریت حاصل کر سکا ہے، جبکہ عرب جماعتیں 19 نشستوں کے ساتھ نئی حکومت کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرنے کی پوزیشن میں آ گئی ہیں۔ لیکن  اسرائیل کی حکومت سازی میں اہم کردار ادا کرنے والے یہ عرب اسرائیلی کون ہیں؟

لیکود پارٹی نے الزام عائد کیا کہ انتخابات کی شفافیت اور نتائج کو متاثر کرنے والی سنگین بے ضابطگیاں سامنے آئی ہیں، جن سے متعلق سینکڑوں بیانات اور مبینہ شواہد پولیس، شن بیت اور مرکزی الیکشن کمیٹی کو فراہم کیے جارہے ہیں۔ 

نیتن یاہو کے ایکس اکاؤنٹ سے جاری بیان میں عرب جماعتوں پر انتخابات چوری کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا گیا کہ متعلقہ ادارے مبینہ انتخابی جرائم کی مکمل تحقیقات کریں اور ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی یقینی بنائیں۔ 

لیکود کے مطابق مبینہ بے ضابطگیوں میں نقد رقم کی تقسیم، پولنگ عملے کو دھمکیاں اور تشدد، ایک سے زیادہ مرتبہ ووٹ ڈالنے، دوہری شناخت کے ذریعے ووٹنگ، ووٹرز کی تعداد میں تضادات اور ووٹروں کو متحرک کرنے کے لیے ممنوعہ سافٹ ویئر کے استعمال جیسے الزامات شامل ہیں۔ 

پارٹی نے ان مبینہ اقدامات کو اسرائیلی جمہوریت اور شہریوں کے حق رائے دہی کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا۔ 

تاہم ان الزامات کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی اور عرب جماعتوں کی جانب سے منظم انتخابی دھاندلی کے ایسے شواہد عوامی سطح پر سامنے نہیں آئے جن سے یہ الزامات ثابت ہوتے ہوں۔ اسرائیل کی مرکزی الیکشن کمیٹی نے لیکود کی شکایات موصول ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے انہیں انتخابی نگرانی کے طریقہ کار کے تحت جانچنے کا بتایا ہے۔ 

نیتن یاہو کے بیٹے یائر نیتن یاہو نے بھی عرب جماعتوں پر تنقید کرتے ہوئے ان کی انتخابی شرکت اور اسرائیل کی یہودی ریاست کے طور پر شناخت سے متعلق سوالات اٹھائے۔ 

اپنے ایکس بیان میں انہوں نے الزام لگایا کہ اسرائیل میں بڑی تعداد میں عرب مسلمان خود کو فلسطینی سمجھتے ہیں اور اسرائیل کی موجودہ ریاستی شناخت کے مخالف ہیں۔ انہوں نے اپنے اس مؤقف کو ایران کے جوہری پروگرام سے پیدا ہونے والے خطرات جتنا سنگین قرار دیا۔ 

انتخابات میں ووٹنگ کا تناسب 77 فیصد سے زیادہ رہا اور اسرائیل کی عرب آبادی نے غیر معمولی تعداد میں ووٹ ڈالے۔ عرب شہری اسرائیل کی مجموعی آبادی کا تقریباً پانچواں حصہ ہیں اور ان میں سے بہت سے خود کو اسرائیل کے فلسطینی شہری قرار دیتے ہیں۔ 

تازہ انتخابی اندازوں کے مطابق عرب قیادت والی جماعتوں کو مجموعی طور پر 19 نشستیں ملنے کی توقع ہے، جو ان کی پارلیمانی نمائندگی میں نمایاں اضافہ ہے۔ 

عرب جماعتوں کی مشترکہ فہرست، جس میں حداش، بلد اور تعال شامل ہیں، کو 12 نشستیں ملنے کا امکان ہے، جبکہ منصور عباس کی قیادت میں یونائیٹڈ عرب لسٹ، المعروف رعام، سات نشستیں حاصل کرسکتی ہے۔ 

تاہم عرب جماعتوں کی نمایاں انتخابی کامیابی کے باوجود حکومت سازی کا معاملہ پیچیدہ ہوگیا ہے کیونکہ انتخابی مہم کے دوران بیشتر یہودی اپوزیشن جماعتوں نے عرب قیادت والی جماعتوں کے ساتھ حکومتی اتحاد بنانے سے انکار کیا تھا۔ 

گادی آئزنکوٹ بھی مشترکہ سیاسی اقدار کے فقدان کو بنیاد بناتے ہوئے عرب جماعتوں کے ساتھ حکومت بنانے کے حوالے سے تحفظات ظاہر کرچکے ہیں۔ 

اس صورتحال میں نیتن یاہو مخالف جماعتوں کو حکومت بنانے کے لیے اپنے سابقہ سیاسی مؤقف پر نظرثانی یا عرب جماعتوں سے پارلیمانی تعاون حاصل کرنے جیسے معاملات پر فیصلہ کرنا ہوگا۔ 

عرب جماعت رعام کے سربراہ منصور عباس اس سے قبل 2021 میں نفتالی بینیٹ کی قیادت میں بننے والی مخلوط حکومت کا حصہ رہ چکے ہیں۔ 

منصور عباس کا مؤقف ہے کہ عرب شہریوں کے مسائل حل کرنے کے لیے صرف پارلیمان میں نمائندگی کافی نہیں، بلکہ حکومتی فیصلوں پر اثرانداز ہونے کی صلاحیت بھی ضروری ہے۔ 

انہوں نے اس مرتبہ اپنی انتخابی فہرست میں دوسرے نمبر پر سابق یہودی پولیس افسر اور اعتدال پسند رکن پارلیمان یوآف سگالووٹز کو شامل کیا، جسے یہودی سیاسی شراکت داروں کے ساتھ تعاون کی کوشش کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔ 

عباس نے واضح کیا ہے کہ ان کی جماعت اگلی حکومت میں شامل ہونا چاہتی ہے تاکہ عرب آبادی کو درپیش مسائل کے حل اور حکومتی پالیسیوں کی تشکیل میں کردار ادا کرسکے۔ 

اس کے برعکس سیکولر جماعتوں پر مشتمل جوائنٹ لسٹ عرب اسرائیلی شہریوں کے مساوی حقوق، فلسطینی علاقوں پر اسرائیلی فوجی قبضے کے خاتمے اور دو ریاستی حل کی حمایت کرتی ہے۔ 

جوائنٹ لسٹ اپوزیشن کے اندر اپنی سیاسی حیثیت مضبوط کرنے اور اہم پالیسی معاملات پر حمایت کے بدلے اثر و رسوخ حاصل کرنے پر توجہ دے رہی ہے۔ اس کے رہنما نیتن یاہو مخالف حکومت کو بعض معاملات میں پارلیمانی حمایت فراہم کرنے کے امکانات پر بھی غور کررہے ہیں۔ 

اسرائیل کے عرب شہریوں کے لیے انتخابات میں سیاسی نمائندگی کے ساتھ جرائم، عدم تحفظ، امتیازی سلوک اور سرکاری وسائل کی تقسیم بھی اہم معاملات رہے ہیں۔ 

ستمبر میں اسرائیل ڈیموکریسی انسٹیٹیوٹ کے ایک سروے کے مطابق 53.5 فیصد عرب شہریوں نے جرائم کی صورتحال کو ووٹ دیتے وقت سب سے اہم مسئلہ قرار دیا تھا۔ 

یہودی اور عرب برادریوں کے درمیان ہم آہنگی کے لیے کام کرنے والی تنظیم ابراہم انیشی ایٹو کے مطابق گزشتہ سال عرب آبادی میں قتل کے واقعات کی تعداد ریکارڈ 252 تک پہنچ گئی، جو قتل ہونے والے یہودی اسرائیلیوں کی تعداد سے تقریباً پانچ گنا زیادہ تھی۔ 

 عرب شہریوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم موسیٰ سینٹر کی نمائندہ سہا سلمان موسیٰ نے الزام عائد کیا کہ 7 اکتوبر کے بعد عرب شہریوں کے ساتھ دشمنوں جیسا برتاؤ کیا گیا۔ 

ان کے مطابق اظہار رائے کی آزادی محدود ہوئی، بڑے پیمانے پر گرفتاریاں ہوئیں اور بعض افراد کو غزہ جنگ کے خلاف سوشل میڈیا پر اظہار خیال کرنے کے باعث ملازمتوں سے محروم ہونا پڑا۔ 

عرب شہری تنظیموں نے عرب آبادیوں کے لیے مختص سرکاری بجٹ میں غیر متناسب کمی اور منظم امتیازی سلوک کی شکایات بھی کی ہیں، جبکہ اسرائیلی حکومت ان کٹوتیوں کو جنگی حالات میں دفاعی اور سکیورٹی اخراجات کی ضروریات سے منسلک کرتی ہے۔ 

اسرائیلی ہسپتالوں میں کام کرنے والے عرب ڈاکٹروں کے خلاف سیاسی مہمات اور عرب بس ڈرائیوروں پر نسلی بنیادوں پر حملوں کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔ 

اسرائیلی چینل 12 کے تجزیہ کار اور عربی ریڈیو سٹیشن ریڈیو ناس سے وابستہ محمد مغدلی نے بڑی یہودی جماعتوں کی جانب سے عرب جماعتوں کے ساتھ اتحاد سے انکار پر تنقید کرتے ہوئے اسے نسل پرستانہ رویہ قرار دیا۔ 

ان کا کہنا تھا کہ نیتن یاہو کی سیاسی حکمت عملی نے عرب جماعتوں کی قانونی حیثیت کو متنازع بنانے اور انہیں سیاسی عمل سے الگ رکھنے کے رجحان کو تقویت دی ہے۔ 

 

 

عرب اسرائیلی ہیں کون؟



عرب اسرائیلیوں کی اکثریت اُن فلسطینیوں کی نسل سے تعلق رکھتی ہے جو سنہ 1948 کی جنگ کے دوران، جب اسرائیل بطور ریاست وجود میں آیا، اپنے علاقوں میں رہ گئے تھے، جبکہ لاکھوں فلسطینی بے گھر ہوئے اور نقل مکانی پر مجبور ہو گئے تھے۔

 

عرب جماعتیں سنہ 2021 میں پہلی بار اسرائیل کے حکومتی اتحاد کا حصہ بنی تھیں، جس کی وجہ سے اس بار بھی حکومت سازی میں ان کے کردار پر خصوصی نظر رکھی جا رہی ہے۔

 

اسرائیل کی موجودہ حکومت اکثر ان جماعتوں کو ’ریاست کی یہودی شناخت کے لیے خطرہ‘ قرار دیتی رہی ہے۔

 

حال ہی میں وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے سیاسی حریف عرب جماعتوں کے ساتھ مل کر ایک ’خطرناک حکومت‘ بنانا چاہتے ہیں۔

 

اسی نکتے کو اجاگر کرنے کے لیے نیتن یاہو کی انتخابی مہم کے دوران مختلف مقامات پر بل بورڈز نصب کیے گئے، جن میں ناصرت کے مرکزی داخلی راستے پر لگایا گیا ایک بل بورڈ بھی شامل تھا۔

 

اس بل بورڈ پر عوام کے سامنے یہ انتخاب پیش کیا گیا تھا: ’دایاں بازو یا فلسطین۔‘

 

نیتن یاہو کی انتخابی مہم میں مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ ویڈیوز بھی استعمال کی گئیں، جن میں ان کے سیاسی مخالفین کو عرب رہنماؤں کے ساتھ گلے ملتے ہوئے دکھایا گیا۔

 

ان انتخابات میں عرب شہریوں کا کردار انتہائی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ وہ نہ صرف حکومت سازی پر اثرانداز ہونے کی پوزیشن میں ہیں بلکہ اپنے ووٹ کو اسرائیل میں اپنے مستقبل کے لیے بھی فیصلہ کن سمجھتے ہیں۔۔ 
 

مزید خبروں اور دلچسپ ویڈیوز کے لیے ہمارے ساتھ شامل ہوں