فضل الرحمٰن دوسروں کوشرم وحیا کا درس دینے کے بجائے اپنا ماضی دیکھیں،خواجہ آصف
وزیر دفاع خواجہ آصف نے واضح کیا ہے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر خطے میں امن، صلح اور مذاکرات کی کوششوں کے سلسلے میں تہران گئے تھے، وہاں کوئی دفاعی معاہدہ زیر بحث نہیں تھا اور نہ ہی ان کی بطور وزیر دفاع موجودگی ضروری تھی۔ قومی اسمبلی میں مولانا فضل الرحمان کی تنقید کا جواب دیتے ہوئے خواجہ آصف نے جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ کے سیاسی ماضی، سابقہ حکومتوں میں شمولیت، کشمیر کمیٹی کی سربراہی اور سیاسی مراعات پر بھی سخت سوالات اٹھائے۔
قومی اسمبلی سے خطاب میں خواجہ آصف نے کہا کہ وہ حکومتی اور اپوزیشن ارکان سمیت تمام سیاسی رہنماؤں کے سوالات اور اعتراضات کا احترام کرتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمان نے حکومت کے مختلف طرز عمل پر تنقید کی اور ان کے کردار پر بھی بھرپور تبصرہ کیا، اس لیے وہ ایوان میں ان کے سوالات کا جواب دینا چاہتے ہیں۔
وزیر دفاع کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر نے گزشتہ سال پاکستان کی فوجی کامیابی کے بعد مذاکرات اور بات چیت کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا اور خطے میں امن کے قیام کے لیے مسلسل سفارتی کوششیں کیں۔
انہوں نے کہا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کا دورہ تہران بھی اسی سلسلے کی کڑی تھا، جس کا مقصد خطے میں کشیدگی کم کرنا، صلح کی راہ ہموار کرنا اور متعلقہ فریقوں کے درمیان بات چیت کو فروغ دینا تھا۔
خواجہ آصف نے واضح کیا کہ تہران میں کسی دفاعی معاہدے پر مذاکرات نہیں ہورہے تھے اور نہ ہی وہاں ہونے والی ملاقات وزارت دفاع کے معاملات سے متعلق تھی، اس لیے بطور وزیر دفاع ان کی شرکت ضروری نہیں تھی۔
انہوں نے کہا کہ تہران میں سعودی وزیر دفاع اور ترکیہ کے انٹیلی جنس چیف بھی آئے تھے۔ ان کے مطابق پاکستان اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی علاقائی امن کوششوں کو عالمی سطح پر سراہا جانا چاہیے، لیکن مولانا فضل الرحمان نے ان سفارتی کاوشوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔
وزیر دفاع نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان پاکستان کی سیاسی تاریخ میں اہم مقام رکھتے ہیں اور ان کے والد بھی ایک نمایاں سیاسی شخصیت تھے، اس لیے وہ ان کے سیاسی کردار کا احترام کرتے ہیں۔ تاہم سیاسی اختلافات کے باوجود ایک دوسرے کے لیے وسعت قلبی اور وقار کا مظاہرہ ہونا چاہیے۔
خواجہ آصف نے سوال اٹھایا کہ مولانا فضل الرحمان نے ایران میں مذاکرات کے لیے اپنی خدمات پیش کرنے کی بات کس تناظر میں کی تھی اور کیا اس کا مقصد اپنی سیاسی اہمیت اجاگر کرنا تھا؟
انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی میں شاید ہی کوئی جماعت ایسی ہو جس کے ساتھ ماضی میں ان کے سیاسی اختلافات اور تعاون دونوں نہ رہے ہوں۔ پیپلز پارٹی کے ساتھ بھی مسلم لیگ ن کے متعدد اختلافات رہے، لیکن ان اختلافات کو پس پشت ڈال کر جو کامیابیاں حاصل کی گئیں، ان کا اعتراف ہونا چاہیے۔
وزیر دفاع نے اپنے سیاسی ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے جنرل ضیا الحق کے دور حکومت کی حمایت کی تھی، تاہم بعد میں اپنے اس مؤقف پر معذرت بھی کی۔ ان کا دعویٰ تھا کہ وہ واحد سیاستدان ہیں جنہوں نے اپنے ماضی پر کھل کر معافی مانگی۔
انہوں نے کہا کہ جب وہ ہائبرڈ نظام کے بارے میں بات کرتے ہیں تو انہیں ماضی کی تقاریر یاد دلائی جاتی ہیں، لیکن تنقید کرنے والے دیگر سیاسی رہنماؤں کو بھی اپنے سابقہ فیصلوں اور سیاسی وابستگیوں کا جائزہ لینا چاہیے۔
خواجہ آصف نے مولانا فضل الرحمان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جب وہ دوسروں کو شرم اور حیا کا درس دیتے ہیں تو انہیں اپنا ماضی بھی دیکھنا چاہیے، کیونکہ وہ خود بھی ماضی میں مختلف حکومتوں کا حصہ رہے ہیں۔
وزیر دفاع نے کہا کہ کوئی سیاسی رہنما یہ دعویٰ نہیں کرسکتا کہ اس کا ماضی ہر قسم کے سیاسی سمجھوتوں سے پاک ہے۔ انہوں نے مولانا کی سابقہ حکومتی شراکت داری، جنرل پرویز مشرف کے دور میں سیاسی کردار اور مختلف عہدوں کا حوالہ دیتے ہوئے ان کی تنقید پر سوالات اٹھائے۔
خواجہ آصف نے مولانا فضل الرحمان کے کشمیر کمیٹی کے چیئرمین کی حیثیت سے 10 سالہ دور کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور سوال کیا کہ انہوں نے اس طویل عرصے میں کشمیر کاز کے لیے کیا خدمات انجام دیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کشمیر جیسے اہم قومی مسئلے کی نمائندگی کرنے والے سیاسی رہنماؤں کی کارکردگی اور کردار کا جائزہ لینا بھی ضروری ہے۔
وزیر دفاع نے مولانا فضل الرحمان پر مذہب اور سیاست کو ذاتی اور سیاسی مفادات کے لیے استعمال کرنے کا الزام بھی عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ دیگر سیاسی جماعتوں نے مذہب کو کمائی کا ذریعہ نہیں بنایا، جبکہ مولانا نے ان کے بقول مذہب کے نام پر فوائد حاصل کیے۔ ان الزامات کے حق میں خطاب کے دوران کوئی دستاویزی شواہد پیش نہیں کیے گئے۔
خواجہ آصف نے پاکستان تحریک انصاف پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کے رہنما سیاسی طور پر مولانا فضل الرحمان کی حمایت اور سرپرستی میں آگئے ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعض سیاسی اختلافات کا تعلق حکومت میں حصہ داری اور مراعات سے ہے۔ ان کے مطابق اگر مولانا فضل الرحمان کی جماعت کو خیبرپختونخوا حکومت میں حصہ مل جاتا تو شاید وہ قومی اسمبلی میں اس نوعیت کی تقریر نہ کرتے۔
وزیر دفاع نے مزید الزام عائد کیا کہ بعض سیاسی رہنما حکومتی معاملات میں حصہ ملنے پر خاموش ہوجاتے ہیں، لیکن حصہ نہ ملنے پر شدید تنقید شروع کردیتے ہیں۔
خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان کی فوجی کامیابیوں اور سفارتی کوششوں کو دنیا بھر میں سراہا گیا، لیکن بعض سیاسی جماعتوں نے ان کامیابیوں کی حوصلہ افزائی نہیں کی بلکہ ان پر تنقید کی۔
انہوں نے مولانا فضل الرحمان پر پی ڈی ایم حکومت کے دوران بعض مبینہ معاملات کا بھی حوالہ دیتے ہوئے تنقید کی، تاہم ان کے بارے میں مزید تفصیلات یا شواہد پیش نہیں کیے۔
وزیر دفاع کی تقریر کے دوران قومی اسمبلی میں شدید شور شرابا ہوا، جس کے باعث کچھ دیر کے لیے ان کا خطاب متاثر ہوا، تاہم وقفے کے بعد انہیں دوبارہ بات کرنے کا موقع دیا گیا۔
خواجہ آصف نے کہا کہ انہوں نے مولانا فضل الرحمان کی تقریر تحمل اور احترام سے سنی، لیکن ان کی جانب سے ذاتی نوعیت کے حملے کیے گئے۔ انہوں نے خواتین ارکان کی جانب سے حمایت کے معاملے پر بھی طنزیہ تبصرہ کیا اور کہا کہ سیاسی رہنماؤں کو اپنے مؤقف کے دفاع کے لیے خود سامنے آنا چاہیے۔
وزیر دفاع نے مولانا فضل الرحمان کو مشورہ دیا کہ وہ دوسروں کی کامیابیوں سے حسد کرنے کے بجائے سیاسی محنت کریں اور ماضی کے معاملات کو نظرانداز کرکے دوسروں پر تنقید نہ کریں۔
انہوں نے کہا کہ سیاسی اختلافات اپنی جگہ، لیکن پاکستان کی سفارتی کامیابیوں اور خطے میں امن کے لیے کی جانے والی کوششوں کا اعتراف ضروری ہے۔