Breaking News

آپ فرعون سے زیادہ طاقتور نہیں، وہ بھی شکست کھا گیا تھا، محمود اچکزئی

آپ فرعون سے زیادہ طاقتور نہیں، وہ بھی شکست کھا گیا تھا، محمود اچکزئی
۱ منٹ پہلے

قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے حکومت سے پارلیمان کو طاقت کا سرچشمہ بنانے، مبینہ کرپشن کی تحقیقات کے لیے کمیٹی قائم کرنے اور ایران و افغانستان سے متعلق معاملات پر اپوزیشن کو اعتماد میں لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کو مزید تقسیم اور کمزور کرنے کے بجائے تمام سیاسی قوتوں کو مل کر اسے مضبوط بنانا ہوگا۔ 

قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے محمود خان اچکزئی نے حکومتی رویے پر تنقید کی اور کہا کہ جب اپوزیشن حکومت سے بات کرتی ہے تو جواب میں گالیاں دینا شروع کردی جاتی ہیں، حالانکہ قومی مسائل کو بات چیت اور سنجیدہ مشاورت سے حل کرنے کی ضرورت ہے۔ 

انہوں نے وفاقی وزیر حنیف عباسی کو مخاطب کرتے ہوئے ان کے دورہ کعبہ شریف کا حوالہ دیا اور سوال اٹھایا کہ ووٹ حاصل کرنے کے لیے کتنے پیسے دیے گئے؟ تاہم انہوں نے اس حوالے سے کوئی ثبوت پیش نہیں کیا۔ 

اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ انہوں نے پہلے بھی مطالبہ کیا تھا کہ موجودہ حکومت کے دور میں ہونے والی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کے لیے پارلیمانی کمیٹی بنائی جائے تاکہ حقائق سامنے آسکیں۔ 

خواجہ آصف، پیپلز پارٹی اور حکومتی ارکان کو مخاطب کرتے ہوئے محمود اچکزئی نے کہا کہ اس ایوان اور پارلیمنٹ کو طاقت کا سرچشمہ بنائیں، اپوزیشن اس مقصد کے لیے آپ کا ساتھ دے گی اور ووٹ بھی دے گی۔ 

انہوں نے ملکی یکجہتی پر زور دیتے ہوئے مشرقی پاکستان کی علیحدگی کا حوالہ دیا اور سوال کیا کہ کیا بنگال کے بعد ملک کو مزید تقسیم کرنا چاہتے ہیں؟ خدا کو مانیں اور اس ملک کو توڑنے کے بجائے مضبوط بنائیں۔ 

محمود اچکزئی نے کہا کہ پاکستان میں اب تک ایک متحد قوم بنانے کے لیے ضروری اقدامات نہیں کیے گئے، جبکہ عام شہریوں کو شدید معاشی اور سماجی مشکلات کا سامنا ہے۔ 

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ملک میں مزدور 15 سے 20 ہزار روپے بھی نہیں کما پارہا اور تقریباً 6 کروڑ بچے سکولوں سے باہر ہیں۔ 

اپوزیشن لیڈر نے سوال اٹھایا کہ ایک طرف پاکستان کو اسلام کا قلعہ کہا جاتا ہے، لیکن دوسری جانب غربت، مہنگائی اور تعلیم کی محرومی جیسے مسائل موجود ہیں، تو ایسے حالات میں یہ دعوے کیا معنی رکھتے ہیں؟ 

انہوں نے بڑھتی ہوئی پیٹرول کی قیمتوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ صاحبِ حیثیت شخص کو بھی گاڑی کی ٹینکی بھروانے کے لیے 40 ہزار روپے درکار ہیں، جبکہ غریب شہری کے پاس 20 ہزار روپے بھی موجود نہیں ہوتے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس قدر معاشی عدم مساوات کے ساتھ ملک نہیں چلایا جاسکتا۔ 

افغانستان سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے محمود اچکزئی نے کہا کہ ایک وقت تھا جب افغانستان پاکستان کا اتنا قریبی دوست تھا کہ سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے اپنی کابینہ کا اجلاس بھی وہاں منعقد کیا تھا۔ 

انہوں نے مولانا فضل الرحمان کے ممکنہ دورہ افغانستان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر مولانا وہاں مذاکرات کے لیے جانے پر آمادہ ہیں تو افغانستان میں ان کی رشتہ داریاں بھی موجود ہیں، جنہیں سفارتی رابطوں میں استعمال کیا جاسکتا ہے۔ 

محمود اچکزئی کا کہنا تھا کہ پاکستان نے خود ماضی میں طالبان کو قومی اثاثہ قرار دیا تھا، اس لیے برسوں پر محیط علاقائی معاملات اور تعلقات فوری طور پر ختم نہیں کیے جاسکتے۔ 

انہوں نے کہا کہ افغانستان سے متعلق مسائل صرف چیخ و پکار اور ایک دوسرے کو گالیاں دینے سے حل نہیں ہوں گے، بلکہ اس کے لیے سنجیدہ مذاکرات اور عملی اقدامات درکار ہیں۔ 

ایران کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ واضح کرے کہ ایران میں کیا ہورہا ہے اور پاکستان اس معاملے میں کیا کردار ادا کررہا ہے۔ 

انہوں نے کہا کہ حکومت ایران سے متعلق پیش رفت اور سفارتی معاملات پر اپوزیشن کو اعتماد میں لے، ہم قومی مفاد میں حکومت کا ساتھ دینے کے لیے تیار ہیں۔ 

محمود اچکزئی نے حکومت اور اپوزیشن کو باہمی اختلافات ختم کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ اب کوئی نئی سیاسی قیادت اچانک سامنے نہیں آنے والی، ملک کے معاملات انہی سیاسی قوتوں نے مل کر چلانے ہیں۔ 

انہوں نے حکومتی ارکان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ فرعون سے زیادہ طاقتور نہیں، وہ بھی شکست کھا گیا تھا۔ نہ آپ اتنے اچھے ہیں اور نہ ہم اتنے برے ہیں، اس لیے ماضی کی تلخیاں بھلا کر ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھیں اور ملک کے مسائل کا حل نکالیں۔

مزید خبروں اور دلچسپ ویڈیوز کے لیے ہمارے ساتھ شامل ہوں