Business

پنجاب بھر میں ایل پی جی کی قیمتیں کم نہ ہو سکیں، منافع خوروں نے اڑھائی ارب روپے کما لیے

پنجاب بھر میں ایل پی جی کی قیمتیں کم نہ ہو سکیں، منافع خوروں نے اڑھائی ارب روپے کما لیے
۱ منٹ پہلے

لاہور سمیت پنجاب بھر میں ایل پی جی کی قیمتیں سرکاری نرخ پر نہ آسکیں، صوبے میں اوگرا کی مقرر کردہ قیمت 280 روپے فی کلو گرام کے باوجود ایل پی جی 550 سے 575 روپے فی کلو گرام تک فروخت ہونے لگی۔ ایل پی جی ڈسٹریبیوٹرز نے دعویٰ کیا ہے کہ مبینہ منافع خور گروہوں نے گزشتہ دو ہفتوں میں ڈھائی ارب روپے سے زائد اضافی منافع کمایا ہے۔ 

ایل پی جی ڈسٹریبیوٹرز کے مطابق پنجاب میں کسی بھی مقام پر صارفین کو سرکاری قیمت پر ایل پی جی دستیاب نہیں، جبکہ گیس کی سپلائی اور فروخت کے مختلف مراحل میں قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ برقرار ہے۔ 

ڈسٹریبیوٹرز کا الزام ہے کہ ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافے سے فائدہ اٹھانے والے گروہ فی کلو گرام 300 روپے سے زائد منافع حاصل کررہے ہیں، تاہم دو ہفتوں میں ڈھائی ارب روپے سے زائد منافع کے دعوے کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی۔ 

دوسری جانب ایل پی جی دکانداروں نے قیمتوں میں اضافے کی ذمہ داری سپلائی کرنے والے پلانٹس پر عائد کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب انفورسمنٹ اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی، جسے پیرا فورس بھی کہا جاتا ہے، اور دیگر متعلقہ ادارے دکانداروں کے خلاف تو کارروائیاں کررہے ہیں، لیکن اوگرا نے اب تک کسی ایل پی جی پلانٹ کے خلاف کارروائی نہیں کی۔ 

دکانداروں کا کہنا ہے کہ انہیں ایل پی جی پلانٹس سے گیس 525 روپے فی کلو گرام سے بھی زیادہ قیمت پر مل رہی ہے، ایسے میں وہ صارفین کو 280 روپے فی کلو گرام کے سرکاری نرخ پر گیس کیسے فروخت کرسکتے ہیں؟ 

انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب ایل پی جی پلانٹس سے ہی گیس مہنگے داموں فراہم کی جارہی ہے تو کارروائی صرف دکانداروں کے خلاف کیوں کی جارہی ہے؟ 

اوگرا نے ایل پی جی کی سرکاری قیمت 280 روپے فی کلو گرام مقرر کر رکھی ہے، لیکن مارکیٹ میں یہ 550 سے 575 روپے فی کلو گرام فروخت ہورہی ہے، جس کے باعث صارفین کو مقررہ نرخ سے 270 سے 295 روپے فی کلو گرام زیادہ ادا کرنا پڑرہے ہیں۔ 

رپورٹ کے مطابق ایل پی جی کی روزانہ کھپت 7 ہزار سے ساڑھے 7 ہزار کلو گرام بتائی گئی ہے، تاہم اس مقدار کا متعلقہ جغرافیائی دائرہ واضح نہیں کیا گیا۔ 

ایل پی جی ڈسٹریبیوٹرز اور دکانداروں نے سرکاری اور مارکیٹ قیمتوں میں بڑے فرق کے ساتھ سپلائی چین میں مبینہ منافع خوری اور کارروائیوں میں عدم توازن کی نشاندہی کی ہے۔

مزید خبروں اور دلچسپ ویڈیوز کے لیے ہمارے ساتھ شامل ہوں