پارلیمان میں ایسی بلیک میلنگ ہو رہی ہے کہ بلیک میلر بھی شرما جائے، حنیف عباسی
وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی نے قومی اسمبلی میں اپوزیشن رہنماؤں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ پارلیمان میں ایسی بلیک میلنگ ہورہی ہے کہ بلیک میلر بھی شرما جائے۔ انہوں نے مولانا فضل الرحمان اور محمود خان اچکزئی کے بیانات پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ مذہب کو ذاتی اور سیاسی مفادات کے لیے استعمال نہ کیا جائے، پاکستان شہدا اور سرحدوں پر کھڑے فوجی جوانوں کا ملک ہے۔
قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے حنیف عباسی نے کہا کہ اس ایوان میں سیاسی بلیک میلنگ کی انتہا ہوچکی ہے۔ انہوں نے ماں کے احترام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہماری مائیں بچپن میں ہمیں بلے اور چڑی چھکے سے بھی مارا کرتی تھیں، لیکن رات کی تاریکی میں بھی کوئی اپنی ماں کو برا بھلا نہیں کہہ سکتا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ قرآن پاک کی آیات اور احادیث کو ذاتی مفادات کے حصول اور سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہیں کرنا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ان لوگوں کا نہیں جنہوں نے بڑے بڑے بنگلے بنا لیے اور مہنگی گاڑیاں حاصل کرلیں، بلکہ یہ ملک ان شہدا اور فوجی جوانوں کا ہے جو سرحدوں پر کھڑے ہوکر اس کے دفاع کے لیے قربانیاں دے رہے ہیں۔
حنیف عباسی نے کہا کہ کیا ہمیں ماضی میں جیلوں میں نہیں ڈالا گیا؟ کیا اس بنیاد پر ہم اس پاکستان کو بھول جائیں جس نے ہمیں عزت اور پہچان دی؟
انہوں نے لسانی اور علاقائی تقسیم پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہاں کبھی ہم پختون، کبھی سرائیکی، کبھی پنجابی اور کبھی بلوچ بن جاتے ہیں، حالانکہ سب کی بنیادی شناخت پاکستانی ہونی چاہیے۔
وفاقی وزیر نے مولانا فضل الرحمان کے سیاسی اتحادوں پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ جن لوگوں نے ماضی میں ان کے خلاف سخت زبان استعمال کی، آج وہ انہی کے ساتھ سیاسی طور پر کھڑے ہیں۔
محمود خان اچکزئی کو مخاطب کرتے ہوئے حنیف عباسی نے الزام عائد کیا کہ انہوں نے ماضی میں بلوچوں کو اپنی الگ فوج بنانے کی بات کی تھی۔
انہوں نے اچکزئی پر افغانستان اور بھارت کو پاکستان سے زیادہ اہمیت دینے کا الزام بھی عائد کیا اور انہیں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کا ساتھ دینے کی دعوت دی۔
حنیف عباسی نے مولانا فضل الرحمان کے ایک بیان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے گزشتہ روز شہدا کے حوالے سے ایسا مؤقف اختیار کیا جس میں اپنے اور دوسروں کے شہدا کے درمیان فرق ظاہر کیا گیا۔
وزیر ریلوے نے سوال کیا کہ شہدا کے درمیان ایسی تفریق کیوں کی جارہی ہے اور کیا کسی کی سیاسی تقریروں سے پاکستان کی سالمیت کو نقصان پہنچایا جاسکتا ہے؟
انہوں نے ملک کی تقسیم سے متعلق بیانات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کوئی کہتا ہے کشمیر چلا جائے گا، کوئی خیبرپختونخوا اور کوئی بلوچستان کی علیحدگی کی بات کرتا ہے، لیکن کسی میں اتنی طاقت نہیں کہ پاکستان کو توڑ سکے۔
حنیف عباسی نے حکومت کی خارجہ پالیسی کا دفاع کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ دنیا بھر میں پاکستان کی سفارتی کامیابیوں کو سراہا جارہا ہے۔
انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف کی عالمی سطح پر اہمیت سے متعلق اپوزیشن کی تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بعض لوگ سوال کرتے ہیں کہ وزیراعظم کو کون پوچھتا ہے، حالانکہ دنیا بھر کے حکمران ان سے ملاقات کے خواہش مند ہیں۔
وفاقی وزیر نے مسلح افواج کے قومی کردار کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی فوج میں بلوچ، پنجابی، پشتون اور سندھی سمیت تمام قومیتوں سے تعلق رکھنے والے جوان شامل ہیں، جو مشترکہ طور پر ملک کا دفاع کررہے ہیں۔
خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے حنیف عباسی نے دعویٰ کیا کہ دہشت گرد اب چھپنے اور بھاگنے پر مجبور ہیں۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ خیبرپختونخوا پولیس کے جوانوں کو سیاسی مفادات کے لیے اپنی جانیں قربان کرنے پر کیوں مجبور کیا جائے؟
حنیف عباسی نے سیاسی رہنماؤں پر زور دیا کہ وہ مذہب کو اپنی سیاست کے لیے استعمال نہ کریں اور قوم کو لسانی، علاقائی یا سیاسی بنیادوں پر تقسیم کرنے سے گریز کریں۔
وفاقی وزیر ریلوے نے پاکستان کو خطے کا محفوظ ملک قرار دیتے ہوئے کہا کہ تمام پاکستانیوں کو قومی پرچم تلے متحد ہونا چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ پاکستان میں تفریق اور تقسیم پیدا کرنے والوں کے مؤقف کو تسلیم نہیں کرتے۔