وزیراعظم نے لاہور اور کراچی ایئرپورٹس کی توسیع کی منظوری دے دی
وزیراعظم شہباز شریف نے لاہور اور کراچی ایئرپورٹس کے ماسٹر پلانز کے تحت توسیعی منصوبوں کی منظوری دیتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ تمام منصوبے مقررہ مدت میں بین الاقوامی معیار کے مطابق مکمل کیے جائیں اور تعمیراتی معیار یا مسافروں کو فراہم کی جانے والی سہولیات پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے۔
اسلام آباد میں وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت ملک کے بڑے شہروں میں ہوائی اڈوں کی توسیع، اپ گریڈیشن اور مسافروں کو بہتر سفری سہولیات فراہم کرنے کے حوالے سے اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا۔
اجلاس کے دوران وزیراعظم نے ہدایت کی کہ ایئرپورٹس پر مسافروں کی سہولت کو ہر حال میں اولین ترجیح دی جائے اور ہوائی اڈوں پر فراہم کی جانے والی خدمات کو بین الاقوامی تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے۔
انہوں نے لاہور اور کراچی ایئرپورٹس کے توسیعی منصوبوں کو مقررہ مدت میں مکمل کرنے کے ساتھ ساتھ ان منصوبوں اور مسافروں کی سہولیات بہتر بنانے کے لیے کی جانے والی اصلاحات کی تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنانے کی ہدایت بھی کی۔
وزیراعظم نے کہا کہ ایئرپورٹس پر سفری سہولیات بہتر بنانے کے لیے بین الاقوامی شہرت یافتہ اداروں کی خدمات حاصل کی جائیں اور مسافروں کی رہنمائی اور معاونت پر مامور افسران و عملے کو اعلیٰ معیار کی سروس ڈلیوری کی باقاعدہ تربیت دی جائے۔
شہباز شریف نے ہوائی اڈوں پر کام کرنے والے مختلف سرکاری اداروں کے درمیان رابطہ کاری مزید مؤثر بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مسافروں کو کسی بھی مرحلے پر غیر ضروری مشکلات کا سامنا نہیں ہونا چاہیے۔
انہوں نے ہوائی اڈوں پر مسافروں کے لیے بہترین کیٹرنگ سروسز فراہم کرنے اور کھانے پینے کی اشیا کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہ کرنے کی بھی ہدایت کی۔
اجلاس میں وزیراعظم کو ملک کے بڑے ایئرپورٹس پر مسافروں کو فراہم کی جانے والی سہولیات کا معیار جانچنے کے لیے ایک بین الاقوامی فرم کی جانب سے حال ہی میں مکمل کیے گئے سروے کے نتائج سے آگاہ کیا گیا۔
حکام نے لاہور اور کراچی ایئرپورٹس کے ماسٹر پلانز، ان کے تحت مجوزہ توسیعی منصوبوں، تعمیراتی مراحل اور منصوبوں کی تکمیل کے لیے مقررہ مدت پر تفصیلی بریفنگ دی۔
اجلاس میں سول ایوی ایشن اتھارٹی کی جانب سے ملک بھر کے مختلف ہوائی اڈوں کی اپ گریڈیشن اور جاری ترقیاتی منصوبوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔
حکام نے بتایا کہ کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے رن وے کی توسیع کا منصوبہ مکمل کیا جاچکا ہے۔
اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران سول ایوی ایشن اتھارٹی نے اندرون ملک پروازوں کی بحالی کے لیے 14 ایئرپورٹس کو فعال کیا ہے۔
وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کی جانب سے مسافروں کی سہولت کے لیے عملے اور کاؤنٹرز کی تعداد میں بھی اضافہ کیا گیا ہے تاکہ مسافروں کو بروقت خدمات فراہم کی جاسکیں۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ ملک کے بڑے ہوائی اڈوں پر بارڈر مینجمنٹ کے خودکار نظام، ای گیٹس (E-Gates)، کی تنصیب پر تیزی سے کام جاری ہے، جس کا مقصد مسافروں کے امیگریشن اور سفری مراحل کو بہتر بنانا ہے۔
حکام نے کراچی کو ایئر کارگو حب بنانے کے منصوبے کے بارے میں بھی بریفنگ دی اور بتایا کہ اس مقصد کے لیے ایئر کارگو ویلیج کے قیام پر کام جاری ہے۔
اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر مسافروں کی سہولت کے لیے میٹ اینڈ گریٹ سروس شروع کردی گئی ہے، جبکہ ایف آئی اے نے ملک کے بڑے ایئرپورٹس پر مسافروں کی بروقت رہنمائی کے لیے پری ڈیپارچر ڈیسک بھی قائم کیے ہیں۔
اجلاس میں حیدرآباد میں موجود ہوا بازی کے تعلیمی ادارے کو مزید بہتر بنا کر بین الاقوامی معیار کی ایوی ایشن یونیورسٹی میں تبدیل کرنے کے منصوبے پر بھی بریفنگ دی گئی۔
حکام کے مطابق اس منصوبے پر فروری 2028 تک کام شروع کردیا جائے گا۔
وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزرا خواجہ محمد آصف، ڈاکٹر مصدق ملک، احد خان چیمہ اور عطاء اللہ تارڑ، مشیر وزیراعظم محمد علی، ارکان قومی اسمبلی راجہ اسامہ سرور اور علی زاہد، وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر سردار یاسر الیاس اور متعلقہ محکموں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔