Breaking News

میں نے کہا تھا محسن نقوی جب چلتے ہیں تو ان کا انداز ’شی میل‘ جیسا ہوتا ہے، کامران مرتضیٰ

میں نے کہا تھا محسن نقوی جب چلتے ہیں تو ان کا انداز ’شی میل‘ جیسا ہوتا ہے، کامران مرتضیٰ
۱ منٹ پہلے

جمعیت علمائے اسلام کے سینئر رہنما سینیٹر کامران مرتضیٰ نے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے متعلق اپنے متنازع بیان کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے وزیر داخلہ کو براہ راست مخصوص لفظ سے مخاطب نہیں کیا بلکہ ان کے چلنے کے انداز سے متعلق تشبیہ دی تھی۔ انہوں نے واضح کیا کہ سیاسی اختلافات کا جواب سیاسی انداز میں دیا جانا چاہیے اور ذاتی حملوں سے گریز ضروری ہے۔ 

اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کامران مرتضیٰ نے کہا کہ اگر کوئی ان کے قائد مولانا فضل الرحمان کے بارے میں نامناسب الفاظ استعمال کرے گا تو اسے جواب ضرور دیا جائے گا۔ 

محسن نقوی سے متعلق اپنے بیان کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہوں نے وزیر داخلہ کے لیے براہ راست لفظ ’شی میل‘ استعمال نہیں کیا تھا بلکہ کہا تھا کہ جب وہ چلتے ہیں تو ان کا انداز ’شی میل‘ جیسا ہوتا ہے۔ 

سینیٹر کامران مرتضیٰ نے ریاست سے متعلق اپنی جماعت کے مؤقف پر بھی بات کی اور کہا کہ اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد ریاست کے بارے میں ان کی ایک واضح پالیسی ہے۔ 

انہوں نے کہا کہ انہوں نے ریاست کی جغرافیائی حدود یا ملکی سرحدوں کے حوالے سے کوئی بات نہیں کی۔ 

جے یو آئی رہنما نے زور دیا کہ سیاسی معاملات میں اختلافِ رائے کا اظہار سیاسی انداز میں ہونا چاہیے اور ایک دوسرے کی ذات کو نشانہ بنانے سے گریز کیا جانا چاہیے۔ 

ملک میں صاف اور شفاف انتخابات سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کامران مرتضیٰ نے کہا کہ انتخابی شفافیت یقینی بنانے کے لیے قوانین پہلے ہی موجود ہیں، ضرورت ان قوانین پر مؤثر عمل درآمد کی ہے۔ 

انہوں نے کہا کہ انتخابات میں ہونے والی دھاندلی یا بے ضابطگیوں کے خلاف موجودہ قانونی نظام کے تحت کارروائی کی جاسکتی ہے۔ 

تاہم انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا ریٹرننگ افسران اور پریزائیڈنگ افسران انتخابی دھاندلی کے خلاف گواہی دینے کے لیے تیار ہوں گے؟ 

کامران مرتضیٰ نے سیاسی اور آئینی معاملات پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کے بعض رہنما نئے صوبوں کے قیام کی حمایت کے حوالے سے بات کررہے ہیں۔ 

انہوں نے یہ امکان بھی ظاہر کیا کہ 28ویں آئینی ترمیم نومبر کے تیسرے ہفتے میں پیش کی جاسکتی ہے، تاہم مجوزہ ترمیم کی دفعات یا تفصیلات بیان نہیں کیں۔

مزید خبروں اور دلچسپ ویڈیوز کے لیے ہمارے ساتھ شامل ہوں