ایران اور امریکا میں مذاکرات کی بحالی کی کوششیں تیز، قطری وفد تہران پہنچ گیا
ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کی بحالی کے لیے سفارتی کوششوں کے دوران قطری وفد جمعہ 30 اکتوبر کی صبح تہران پہنچ گیا، جہاں وہ ایرانی حکام کے ساتھ دوطرفہ تعلقات اور خطے کی تازہ صورتحال پر بات چیت کرے گا۔
ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا نے قطری وفد کی تہران آمد کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ وفد کی قیادت قطر کے وزیراعظم اور وزیر خارجہ کے ایک سینئر مشیر کررہے ہیں۔
ارنا کے مطابق دورے کے دوران قطری وفد ایرانی حکام سے ملاقاتیں کرے گا، جن میں دونوں ممالک کے تعلقات اور خطے میں ہونے والی تازہ پیش رفت پر مشاورت کی جائے گی۔
تاہم ایرانی خبر رساں ایجنسی نے اپنی رپورٹ میں اس بات کا ذکر نہیں کیا کہ قطری وفد ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ مذاکرات کی بحالی میں کوئی ثالثی کردار ادا کرے گا یا نہیں۔
اس سے قبل بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز نے ایک باخبر عہدیدار کے حوالے سے رپورٹ کیا تھا کہ قطری ثالث ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ معاہدے تک پہنچنے کی کوششوں کے سلسلے میں تہران کا دورہ کررہے ہیں۔
رائٹرز کے مطابق قطری حکام ان سفارتی کوششوں کے دوران واشنگٹن سے بھی مسلسل رابطے میں ہیں تاکہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے امکانات کا جائزہ لیا جاسکے۔
خبر رساں ادارے نے مذاکرات سے واقف ایک عہدیدار کے حوالے سے بتایا کہ قطری وفد نے گزشتہ اتوار، 25 اکتوبر کو تہران کے دورے کے دوران ایرانی حکام کو ایک مجوزہ امن منصوبہ پیش کیا تھا۔
تاہم ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے مبینہ طور پر قطری تجاویز کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے واضح کیا تھا کہ تہران اپنے جوہری پروگرام سے متعلق مؤقف پر قائم رہے گا۔
رپورٹ کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کی بحالی میں سب سے بڑی رکاوٹ بات چیت شروع کرنے کی ابتدائی شرائط پر اختلافات ہیں۔
واشنگٹن چاہتا ہے کہ ممکنہ مذاکرات کے آغاز ہی سے ایران کے جوہری پروگرام کو ایجنڈے میں شامل کیا جائے۔
دوسری جانب تہران کا مؤقف ہے کہ امریکا کو مذاکرات سے پہلے ایرانی بندرگاہوں کا محاصرہ ختم کرنا ہوگا اور ایران کی تیل برآمدات پر عائد پابندیاں اٹھانا ہوں گی۔
ایرانی حکام کے مطابق ان مطالبات کو نظرانداز کرکے مذاکرات میں پیش رفت کرنا قابل قبول نہیں ہوگا۔
اس سے قبل بدھ کے روز ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا تھا کہ تہران مختلف ثالثوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے تاکہ جنگ کے خاتمے کے لیے ایران کے مجوزہ سات روزہ منصوبے پر عمل درآمد کے امکانات کا جائزہ لیا جاسکے۔
عباس عراقچی کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ مذاکرات کی شرائط پر اختلافات کے باوجود ایران ثالثی کرنے والے ممالک سے سفارتی رابطے جاری رکھے ہوئے ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نائب صدر جے ڈی وینس کے ایرانی حکام سے رابطوں کے بارے میں امریکی میڈیا رپورٹس پر ردعمل دیتے ہوئے ان رابطوں کا مختلف مقصد بیان کیا۔
ٹرمپ نے کہا کہ نائب صدر کے رابطوں کا تعلق ایران کو ادویات اور طبی سامان کی فراہمی میں مدد دینے سے تھا۔
تاہم امریکی میڈیا کی مختلف رپورٹس میں جے ڈی وینس کے ان رابطوں کو ایران اور امریکا کے درمیان امن مذاکرات کی بحالی کے لیے جاری سفارتی کوششوں سے منسلک کیا گیا ہے۔