لاہور ہائیکورٹ کا سرکاری ہسپتالوں میں پرچی سسٹم چار ہفتوں میں ختم کرنے کا حکم
لاہور ہائیکورٹ نے سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کے لیے رائج پرچی سسٹم چار ہفتوں میں ختم کرنے کا حکم دے دیا۔
عدالت نے ہدایت کی ہے کہ مریضوں کو علاج سے پہلے رجسٹریشن کاؤنٹر سے پرچی حاصل کرنے کی پابندی سے آزاد کیا جائے اور انہیں طویل قطاروں میں کھڑا کیے بغیر فوری طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس ملک جاوید اقبال وینس نے سرکاری ہسپتالوں میں طبی سہولیات کی کمی سے متعلق درخواست پر تحریری حکمنامہ جاری کیا۔
عدالت عالیہ نے حکم دیا کہ سرکاری ہسپتالوں میں علاج کے لیے آنے والے مریضوں کو رجسٹریشن پرچی کے حصول میں مشکلات کا سامنا نہیں ہونا چاہیے۔
عدالت نے ہدایت کی کہ ایمرجنسی اور آؤٹ ڈور شعبوں میں آنے والے مریضوں کو فوری طبی امداد فراہم کی جائے اور علاج شروع کرنے سے پہلے پرچی کے حصول کی شرط ختم کی جائے۔
حکمنامے میں کہا گیا کہ مریضوں کو رجسٹریشن کے لیے لمبی قطاروں میں کھڑے ہونے کی زحمت نہ دی جائے اور طبی خدمات تک ان کی رسائی آسان بنائی جائے۔
سماعت کے دوران سپیشل سیکریٹری صحت نے عدالت کو بتایا کہ جدید نظام متعارف کروا کر مریضوں کے علاج کے عمل کو زیادہ مؤثر اور آسان بنایا جائے گا۔
سپیشل سیکریٹری صحت نے عدالت عالیہ کو یقین دہانی کرائی کہ سرکاری ہسپتالوں میں موجودہ پرچی سسٹم چار ہفتوں کے اندر ختم کردیا جائے گا۔
لاہور ہائیکورٹ نے سرکاری ہسپتالوں میں دستیاب طبی سہولیات سے متعلق متعلقہ حکام سے جامع رپورٹ بھی طلب کرلی۔
عدالت نے سابقہ عدالتی احکامات پر عمل درآمد نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے قرار دیا کہ عدالتی ہدایات پر عمل نہ کرنا متعلقہ حکام کے غیر سنجیدہ اور لاپرواہ رویے کی عکاسی کرتا ہے۔
عدالت عالیہ نے تمام متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ چار ہفتوں کے اندر عدالتی احکامات پر مکمل عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔
حکمنامے میں خبردار کیا گیا کہ اگر کسی معقول جواز کے بغیر عدالتی احکامات پر عمل درآمد نہ کیا گیا تو ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی ہوسکتی ہے۔
لاہور ہائیکورٹ نے کیس کی مزید سماعت چھ ہفتوں کے لیے ملتوی کردی۔