Pakistan

سانحہ دیر کالونی کے بعد 4409 سکولوں اور مدارس کی سکیورٹی جانچنے کا فیصلہ

سانحہ دیر کالونی کے بعد 4409 سکولوں اور مدارس کی سکیورٹی جانچنے کا فیصلہ
۱ منٹ پہلے

خیبرپختونخوا میں سانحہ دیر کالونی کے بعد 4409 سکولوں اور مدارس کے حفاظتی انتظامات کا جائزہ لینے اور تعلیمی اداروں کی عمارتوں سے متعلق غفلت کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ صوبائی مشیر اطلاعات و تعلقات عامہ ثمر ہارون بلور نے کہا ہے کہ سانحے کی تحقیقات کے لیے قائم کمیٹی جلد اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔ 

پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے خیبرپختونخوا کی ممبر ایڈوائزری کونسل اور مشیر اطلاعات ثمر ہارون بلور نے کہا کہ دیر کالونی میں پیش آنے والا سانحہ انتہائی اہم معاملہ ہے، جس کی تحقیقات کے لیے باقاعدہ کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ 

انہوں نے بتایا کہ کمیٹی جلد اپنی رپورٹ پیش کرے گی اور اس کی روشنی میں مزید اقدامات کیے جائیں گے۔ 

ثمر بلور کے مطابق صوبے کے 4409 سکولوں اور مدارس میں سکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیا جائے گا۔ 

انہوں نے واضح کیا کہ جن محکموں نے تعلیمی اداروں کی عمارتوں کی تعمیر کے لیے این او سی جاری کیے تھے، ان کے کردار کا بھی جائزہ لیا جائے گا اور جہاں ذمہ داری ثابت ہوئی وہاں متعلقہ افراد کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ 

مشیر اطلاعات نے کہا کہ سکولوں کی عمارتوں کی تعمیر و مرمت بھی اس انداز میں کی جائے گی کہ بچوں کی تعلیم متاثر نہ ہو۔ 

پولیس کی استعداد کار سے متعلق ثمر ہارون بلور نے بتایا کہ خیبرپختونخوا پولیس کو 8 اے پی سی گاڑیاں فراہم کردی گئی ہیں، جبکہ پولیس کی صلاحیتوں میں اضافے کے لیے مزید بڑے اقدامات بھی کیے جارہے ہیں۔ 

صحت کارڈ پروگرام کے حوالے سے انہوں نے واضح کیا کہ صوبائی حکومت کا اس پروگرام کو بند یا منسوخ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے، تاہم اس کی کارکردگی کا جائزہ شروع کردیا گیا ہے۔ 

انہوں نے کہا کہ میڈیکل ٹیچنگ انسٹی ٹیوشنز، یعنی ایم ٹی آئیز کے بورڈز اور انتظامیہ کی نگرانی بھی کی جائے گی اور اقربا پروری برداشت نہیں کی جائے گی۔ 

سرکاری اراضی پر قبضوں کے معاملے پر ثمر بلور نے کہا کہ جہاں بھی سرکاری زمین پر غیرقانونی قبضہ کیا گیا ہے، اسے واگزار کرایا جائے گا۔ 

تاہم انہوں نے واضح کیا کہ کسی شخص کے خلاف انتقامی کارروائی نہیں کی جائے گی۔ 

واٹر اینڈ سینی ٹیشن سروسز پشاور، یعنی ڈبلیو ایس ایس پی کی کارکردگی پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اب شہر میں صفائی کا عمل رات گئے تک جاری رہتا ہے۔ 

البتہ انہوں نے تسلیم کیا کہ پشاور کے بعض علاقوں میں مین ہول کورز اور ڈسٹ بنز کی کمی جیسے مسائل اب بھی موجود ہیں۔ 

ثمر ہارون بلور نے محکمہ اوقاف میں ڈیجیٹل پورٹل کے قیام کا بھی ذکر کیا، جس کے ذریعے شہریوں کو معلومات اور مختلف خدمات تک رسائی فراہم کی جائے گی۔ 

سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی سے متعلق سوال پر مشیر اطلاعات نے کہا کہ وہ اب بھی محفوظ کسٹڈی میں ہیں اور ان کے خلاف چارج شیٹ سامنے آنے کے بعد معاملے کا جائزہ لیا جائے گا۔ 

جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے ثمر بلور نے کہا کہ وہ مولانا کا احترام کرتی ہیں، تاہم بعض معاملات کو آپس میں جوڑنے کا ان کا انداز درست نہیں۔ 

انہوں نے امید ظاہر کی کہ مولانا فضل الرحمان صوبے کی ترقی کے لیے حکومت کے ساتھ مل کر آگے بڑھیں گے۔ 

پریس کانفرنس کے دوران ثمر ہارون بلور نے سابقہ صوبائی انتظامی معاملات اور ترقیاتی منصوبوں میں اربوں روپے کی مبینہ کرپشن کے الزامات بھی عائد کیے۔ 

انہوں نے دعویٰ کیا کہ مختلف اضلاع میں غیرقانونی ٹھیکے دیے گئے اور ان معاملات میں سہیل آفریدی کے بھائی اور کزن کا مبینہ کردار بھی سامنے آتا ہے۔

مزید خبروں اور دلچسپ ویڈیوز کے لیے ہمارے ساتھ شامل ہوں