پوپ لیو امریکی انتخابات میں ووٹ ڈالنے والے پہلے پوپ بن گئے
ویٹیکن نے تصدیق کی ہے کہ امریکا میں پیدا ہونے والے پوپ لیو چہاردہم نے امریکی وسط مدتی انتخابات میں ڈاک کے ذریعے اپنا ووٹ کاسٹ کردیا ہے،پوپ لیو امریکی انتخابات میں ووٹ ڈالنے والے پہلے پوپ بن گئے۔
دی نیشنل کی رپورٹ کے مطابق شکاگو میں پیدا ہونے والے پوپ لیو چہاردہم، جن کا اصل نام رابرٹ فرانسس پریوووسٹ ہے، نے اپنی آبائی امریکی ریاست الینوائے میں ووٹ ڈالنے کے لیے ڈاک کے ذریعے بیلٹ پیپر جمع کرایا۔
ول کاؤنٹی کے انتخابی دفتر کے مطابق پوپ لیو چہاردہم کی جانب سے غیر حاضر ووٹر کی حیثیت سے ووٹ ڈالنے کی درخواست منظور کی گئی تھی۔
انتخابی دفتر کے مطابق ان کا بیلٹ پیپر الینوائے کے علاقے نیو لینوکس میں موجود ان کے رجسٹرڈ پتے پر بھیجا گیا، جہاں سے اسے ویٹیکن سٹی پہنچایا گیا۔
ویٹیکن کے ترجمان نے بتایا کہ پوپ لیو چہاردہم جمہوری عمل میں شرکت کو بنیادی حق اور شہری ذمہ داری سمجھتے ہیں۔
ترجمان کے مطابق انہوں نے ماضی کی روایت برقرار رکھتے ہوئے اس مرتبہ بھی ڈاک کے ذریعے اپنا ووٹ کاسٹ کیا۔
71 سالہ پوپ لیو چہاردہم امریکا میں پیدا ہونے والے پہلے پوپ ہیں۔
وہ ماضی میں پیرو میں مشنری اور بشپ کی حیثیت سے خدمات انجام دینے کے دوران بھی امریکی انتخابات میں ووٹ ڈالتے رہے ہیں۔
پوپ منتخب ہونے کے باوجود ان کی امریکی شہریت برقرار ہے، جس کے باعث وہ امریکی انتخابات میں ووٹ ڈالنے کا قانونی حق رکھتے ہیں۔
واضح رہے کہ مئی 2025 میں دنیا بھر کے کارڈینلز نے پوپ لیو چہاردہم کو کیتھولک مسیحیوں کا روحانی پیشوا منتخب کیا تھا۔
وہ دنیا بھر میں تقریباً ایک ارب 40 کروڑ کیتھولک مسیحیوں کے روحانی پیشوا ہیں۔