World

سعودی فوجی اتحاد کا ملک کے مختلف علاقوں میں متعدد ڈرونز مار گرانے کا دعویٰ

سعودی فوجی اتحاد کا ملک کے مختلف علاقوں میں متعدد ڈرونز مار گرانے کا دعویٰ
۱ منٹ پہلے

سعودی عرب کی قیادت میں قائم فوجی اتحاد نے دارالحکومت ریاض سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں تین ڈرونز مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ یمن کی حکومت نے حوثی جنگجوؤں کی جانب سے عدن کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر مسلسل حملوں کے خلاف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے مؤثر کارروائی کا مطالبہ کردیا ہے۔ 

سعودی فوجی اتحاد کے مطابق ہفتے کی صبح ملک کے تیل سے مالا مال مشرقی علاقے میں ایک ڈرون کو فضا میں تباہ کیا گیا۔ 

سعودی عرب کا مشرقی علاقہ ملک کا اہم معاشی مرکز ہے، جہاں تیل اور گیس کے بڑے ذخائر موجود ہیں، جبکہ سعودی تیل کمپنی آرامکو کا صدر دفتر بھی اسی علاقے میں واقع ہے۔ 

حالیہ ہفتوں کے دوران حوثی جنگجوؤں کی جانب سے اس علاقے کو متعدد مرتبہ نشانہ بنایا گیا ہے، جبکہ اکتوبر کے اوائل میں ہونے والے ایک حملے میں آرامکو کی تنصیبات کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچنے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔ 

دوسری جانب سعودی فوجی اتحاد کے ترجمان ترکی المالکی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بتایا کہ فضائی دفاعی نظام نے دارالحکومت ریاض کے علاقے میں ایک دشمن ڈرون کو روک کر تباہ کردیا۔ 

ترجمان کے مطابق ڈرون کا ملبہ علاقے میں گرا، تاہم اس سے کوئی نقصان نہیں ہوا۔ 

ترکی المالکی نے اس سے چند گھنٹے قبل سعودی عرب کے مشرقی اور جنوبی علاقوں میں بھی دو دیگر ڈرونز مار گرائے جانے کا اعلان کیا تھا۔ 

ایران کے خلاف امریکا کی جنگ کے دوران سعودی قیادت میں قائم فوجی اتحاد اور حوثی جنگجوؤں کے درمیان کشیدگی میں بھی اضافہ ہوا ہے، جس سے خطے میں ایک اور محاذ پر تصادم شدت اختیار کرگیا ہے۔ 

ادھر یمن کی حکومت نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ عدن کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر حوثی انصار اللہ گروپ کے بار بار حملوں کی مذمت کرے اور شہریوں اور شہری تنصیبات کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔ 

یمنی حکومت نے حوثیوں پر عائد اسلحے کی پابندی پر عمل درآمد یقینی بنانے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ 

یہ مطالبہ اقوام متحدہ میں یمن کے مستقل مندوب سفیر عبداللہ السعدی نے سلامتی کونسل کے صدر کو لکھے گئے خط میں کیا۔ 

عبداللہ السعدی کے مطابق حوثی جنگجوؤں نے 28 اکتوبر کو عدن کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر بیلسٹک میزائلوں سے حملہ کیا، جو رواں ماہ اس ہوائی اڈے پر چھٹا حملہ تھا۔ 

انہوں نے کہا کہ ان حملوں سے مسافروں اور ہوائی اڈے کے عملے کی زندگیاں خطرے میں پڑیں، جبکہ متعدد پروازوں کا رخ بھی تبدیل کرنا پڑا۔ 

یمنی حکومت نے شہری ہوائی اڈے کو نشانہ بنانے کو جنگی جرم اور مسافروں، فضائی عملے اور ہوائی اڈے کے ملازمین کی زندگیوں کے لیے براہ راست خطرہ قرار دیا۔ 

حکومت کا کہنا تھا کہ شہری تنصیبات کو مسلسل نشانہ بنائے جانے کے بعد عالمی برادری کو صرف تشویش اور مذمت کے بیانات تک محدود رہنے کے بجائے عملی اقدامات کرنا ہوں گے، تاکہ شہری ہوائی اڈوں کا تحفظ یقینی بنایا جاسکے اور ذمہ داروں کا احتساب ہو۔ 

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایک اجلاس میں یمن نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا کہ حوثی جنگجو سمگلنگ کے نیٹ ورکس اور ایران کی مبینہ مدد سے جدید ہتھیار اور فوجی ٹیکنالوجی حاصل کررہے ہیں، جس سے بین الاقوامی پابندیوں کے نظام کو سنگین چیلنج درپیش ہے۔ 

یمنی حکومت نے ایران پر حوثیوں کو فوجی مدد فراہم کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس معاونت کی وجہ سے حوثی جنگجو بیلسٹک میزائلوں، ڈرونز اور دھماکا خیز مواد سے بھری کشتیوں کے ذریعے حملوں کی صلاحیت بڑھا رہے ہیں۔ 

یمنی حکومت کے مطابق اس صورتحال سے بحیرہ احمر، آبنائے باب المندب اور خلیج عدن میں بحری آمدورفت کو خطرات لاحق ہیں۔ 

یمن نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81 ویں اجلاس میں بھی عالمی برادری سے ریاستی اداروں کی بحالی اور ملک میں سلامتی و استحکام کے قیام کے لیے مدد فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔ 

اس سلسلے میں سلامتی کونسل کی قرارداد 2216 پر عمل درآمد کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔ 

یمنی حکومت نے تقریباً 40 لاکھ آبادی والے شہر تعز کے مسلسل محاصرے پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے اس کے سنگین انسانی نتائج سے خبردار کیا۔ 

دوسری جانب سعودی عرب کے وزیر خارجہ فیصل بن فرحان اور امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اٹلانٹا میں جی 20 وزرائے خارجہ کے اجلاس کے موقع پر ملاقات کی۔ 

خبر رساں اداروں کے مطابق دونوں وزرائے خارجہ نے خطے کی تازہ صورتحال اور آبنائے ہرمز اور باب المندب سے گزرنے والے بحری جہازوں کی آمدورفت کے تحفظ کو یقینی بنانے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا۔ 

ملاقات کے دوران دونوں ممالک نے ایک معاہدے پر بھی دستخط کیے، جس کے تحت امریکا 2030 میں سعودی دارالحکومت ریاض میں منعقد ہونے والی عالمی نمائش ایکسپو 2030 میں شرکت کرے گا۔

مزید خبروں اور دلچسپ ویڈیوز کے لیے ہمارے ساتھ شامل ہوں