World

یمن کی افواج کا 500 حوثی جنگجوؤں اور فیلڈ کمانڈروں کو ہلاک و زخمی کرنے کا دعویٰ

یمن کی افواج کا 500 حوثی جنگجوؤں اور فیلڈ کمانڈروں کو ہلاک و زخمی کرنے کا دعویٰ
۱ منٹ پہلے

یمن کی افواج نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ایک ہزار 272 کارروائیوں میں تقریباً 500 حوثی جنگجوؤں اور فیلڈ کمانڈروں کو ہلاک و زخمی کردیا گیا، جبکہ دوسری جانب حوثیوں نے سعودی عرب پر الحدیدہ کی تیل تنصیبات اور بندرگاہ پر فضائی حملوں کا الزام عائد کیا ہے، جن میں سات افراد زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ 

یمنی فوج کے ترجمان ماجد النزیلی کے مطابق کارروائیوں میں 169 گاڑیوں، آلات اور بھاری ہتھیاروں کو تباہ یا نقصان پہنچایا گیا، تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ تقریباً 500 حوثی جنگجوؤں میں سے کتنے ہلاک اور کتنے زخمی ہوئے۔ 

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں فوجی ترجمان نے کہا کہ یہ حملے آپریشن ڈان کے تحت کیے گئے، جن میں حوثیوں کے ٹھکانوں، کمک، قلعہ بندیوں، فائرنگ کے مقامات اور سپلائی راستوں کو نشانہ بنایا گیا۔ 

ان کے مطابق ان کارروائیوں سے حکومتی فورسز کو زمینی پیش قدمی اور شمالی یمن میں الجوف محاذ پر بعض پوزیشنوں کا دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے میں مدد ملی۔ 

ماجد النزیلی نے مزید کہا کہ حکومتی فورسز ماریب، البیضاء، لحج اور تعز صوبوں میں بھی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ 

دوسری جانب یمن کے حوثیوں نے پیر کے روز دعویٰ کیا کہ سعودی عرب کی جانب سے بحیرۂ احمر کے اہم بندرگاہی علاقے اور صوبہ الحدیدہ میں تیل کی ایک تنصیب پر فضائی حملے کیے گئے، جن میں سات افراد زخمی ہوئے۔ 

حوثیوں کی وزارتِ صحت کے ترجمان انیس الاصبحی نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ سعودی قیادت والے اتحاد کے حملے میں راس عیسیٰ بندرگاہ پر چار شہری زخمی ہوئے، جبکہ باجل کے علاقے میں تیل کی ایک تنصیب پر حملے سے مزید تین افراد زخمی ہوئے۔ 

انہوں نے الزام عائد کیا کہ تیل کی تنصیبات اور اہم بندرگاہوں پر بار بار حملے بین الاقوامی انسانی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہیں اور یمن میں جنگی جرائم میں اضافے کا باعث بن رہے ہیں، جن میں شہریوں اور اہم بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ 

حوثیوں سے وابستہ ٹی وی چینل المسیرہ نے اس سے قبل رپورٹ کیا تھا کہ سعودی عرب نے راس عیسیٰ بندرگاہ پر ایک گھاٹ اور تجارتی بحری جہاز کو نشانہ بنایا ہے۔ 

الحدیدہ حوثیوں کے زیرِ کنٹرول سب سے بڑی بندرگاہ ہے، جس کے ذریعے خوراک اور انسانی امداد کا بڑا حصہ حوثیوں کے زیرِ انتظام علاقوں تک پہنچتا ہے۔ 

الحدیدہ شہر کے شمال میں واقع راس عیسیٰ بندرگاہ تیل کی درآمد اور ذخیرہ کرنے کے لیے بھی استعمال ہوتی ہے۔ 

حوثی ذرائع ابلاغ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اتوار کو الحدیدہ صوبے میں واقع یونیورسٹی آف الحدیدہ کے میڈیکل کالج پر بھی حملے کیے گئے۔ 

دوسری جانب سعودی عرب کی قیادت والے اتحاد نے کہا ہے کہ اس نے حوثیوں کے زیرِ استعمال اہم وسائل کو ناکارہ بنانے کے لیے ایک درست اور ہدفی کارروائی کی ہے۔ 

اقوامِ متحدہ کے مطابق یمن میں لڑائی دوبارہ شروع ہونے کے بعد اب تک ایک ہزار 600 سے زائد افراد ہلاک اور تین لاکھ سے زیادہ بے گھر ہوچکے ہیں۔

مزید خبروں اور دلچسپ ویڈیوز کے لیے ہمارے ساتھ شامل ہوں