World

اسرائیل کو ناقابلِ تلافی زوال کا سامنا ہے،اسرائیلی یرغمالی بمباری سے ہلاک ہوئے،سابق فوجی افسران

اسرائیل کو ناقابلِ تلافی زوال کا سامنا ہے،اسرائیلی یرغمالی بمباری سے ہلاک ہوئے،سابق فوجی افسران
۱ منٹ پہلے

سابق اسرائیلی میجر جنرل اتزحاک برک نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل کو محض سیاسی بحران نہیں بلکہ فوج، معیشت، ریاستی اداروں اور معاشرے سمیت جامع اور ناقابلِ تلافی زوال کا سامنا ہے، جبکہ اسرائیلی فوج کے سابق سربراہ ہرزی حالیوی نے اعتراف کیا ہے کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی بمباری کے دوران حماس کے زیرِ حراست بعض اسرائیلی یرغمالی بھی ہلاک ہوئے تھے۔ 

سابق اسرائیلی میجر جنرل اتزحاک برک نے حالیہ پارلیمانی انتخابات کے نتائج کو اسرائیل کے لیے ’ڈیتھ سرٹیفکیٹ‘ سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ ملک کی صورتحال انتہائی سنگین ہوچکی ہے۔ 

برک کے مطابق طویل جنگ کے باعث اسرائیلی زمینی افواج شدید دباؤ، ساختی کمزوری اور حوصلے میں کمی کا شکار ہیں۔ 

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بیک وقت کئی محاذوں پر وسیع جنگ چھڑ گئی تو اسرائیل کی موجودہ فوجی صلاحیت بڑے پیمانے پر دراندازی روکنے اور شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے ناکافی ثابت ہوسکتی ہے۔ 

سابق اسرائیلی جنرل نے ملک کی معاشی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ طویل جنگ کے باعث اسرائیل کا قومی قرض تقریباً 1.4 ٹریلین شیکل، یعنی تقریباً 445 ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔ 

ان کا کہنا تھا کہ ممکنہ بین الاقوامی پابندیاں، اسلحے کی فراہمی میں رکاوٹیں اور مالی تنہائی اسرائیل کی صورتحال کو مزید خراب کرسکتی ہیں۔ 

اتزحاک برک نے وزیراعظم نیتن یاہو کی جانب سے پابندیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے کرپٹو کرنسی استعمال کرنے کی تجویز کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ 

دوسری جانب اسرائیلی فوج کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ہرزی حالیوی نے اعتراف کیا ہے کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی بمباری کے دوران حماس کے زیرِ حراست بعض اسرائیلی یرغمالی بھی ہلاک ہوئے تھے۔ 

اسرائیلی میڈیا کے مطابق مارچ 2025 میں اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کے بعد پہلے عوامی بیان میں ہرزی حالیوی نے کہا کہ فوج کو معلوم نہیں تھا کہ جن مقامات پر حملے کیے جارہے تھے، وہاں اسرائیلی یرغمالی بھی موجود ہیں۔ 

نیویارک میں ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ غزہ میں شدید فوجی دباؤ کے بغیر یرغمالیوں کی واپسی ممکن نہیں تھی، تاہم اس کارروائی کے دوران بعض یرغمالی اسرائیلی بمباری کا نشانہ بھی بنے۔ 

ہرزی حالیوی نے 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے کو اسرائیل کی ایسی ناکامی قرار دیا جسے روکا جاسکتا تھا۔ 

تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اس ناکامی میں کسی قسم کی اندرونی غداری شامل نہیں تھی۔ 

سابق اسرائیلی فوجی سربراہ نے مزید کہا کہ 7 اکتوبر کے حملے کے بعد غزہ میں حماس کے خلاف زمینی کارروائی شروع کرنے کے لیے سیاسی قیادت کو قائل کرنے میں کافی وقت لگا۔

مزید خبروں اور دلچسپ ویڈیوز کے لیے ہمارے ساتھ شامل ہوں