چند روز میں 7 نکاتی تجویز پر عمل درآمد کا امکان ہے،گیند امریکا کے کورٹ میں ہے،اسماعیل بقائی
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ مذاکرات کی بنیاد ایران کی 7 نکاتی تجویز ہے، اب گیند امریکا کے کورٹ میں ہے اور ایران کے مطالبات بالکل واضح اور منطقی ہیں۔
تہران میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ترجمان ایرانی وزارت خارجہ نے کہا کہ آئندہ چند روز میں ایران کی 7 نکاتی تجویز پر عمل درآمد کا امکان موجود ہے۔
اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ کسی بھی معاہدے تک پہنچنے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے امریکی بحری ناکہ بندی کا خاتمہ اور ایران کے مطالبات کی منظوری ضروری ہے۔
انہوں نے بتایا کہ امریکا کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ جاری ہے، جبکہ نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی اس عمل میں سہولت کاری کے لیے دوحہ میں موجود تھے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے دعویٰ کیا کہ اسرائیلی حکام کے خلاف اپنے قانونی ضابطوں کے مطابق کارروائی کرنے پر عالمی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کو امریکا کی جانب سے شدید دباؤ کا سامنا ہے۔
اسماعیل بقائی نے امریکا کی سفارتی پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران واشنگٹن نہ صرف کوئی سفارتی اقدام پیش کرنے میں ناکام رہا بلکہ اس نے سفارتی عمل کو فعال طور پر نقصان بھی پہنچایا۔
انہوں نے اسرائیل کو مغربی ایشیا میں عدم تحفظ کی بنیادی وجہ قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ اسرائیل نے غزہ اور لبنان میں اپنے مظالم میں مزید شدت پیدا کردی ہے۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ سرد موسم کی آمد کے پیش نظر بے گھر افراد تک زندگی کی بنیادی ضروریات کی فراہمی میں رکاوٹوں نے ان کی صورتحال کو تباہ کن حد تک پہنچا دیا ہے۔
اسماعیل بقائی کے مطابق عالمی برادری اور یورپی ممالک غزہ کی صورتحال کے حوالے سے بے حسی کا مظاہرہ کررہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ انسانی زندگیوں کو محض اعداد و شمار تک محدود کردینا اور مظالم کو معمول کی بات سمجھنا انتہائی خطرناک رجحان ہے، جو انسانی ضمیر کے لیے سنگین خطرہ بن چکا ہے۔