ایران کے ساتھ جاری جنگ نے انتخابات میں ہمیں نقصان پہنچایا، ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وسط مدتی انتخابات میں ری پبلکن پارٹی کی ناقص کارکردگی پر ایران کے ساتھ جاری جنگ کے اثرات کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس تنازع نے انتخابی نتائج کو کسی حد تک متاثر کیا، تاہم ان کے بقول امریکی عوام ایران سے متعلق ان کی پالیسی اور اقدامات کی اہمیت کو سمجھتے ہیں۔
امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے تسلیم کیا کہ ایران کے ساتھ جنگ کے باعث مڈٹرم انتخابات میں ری پبلکن امیدواروں کی کارکردگی متاثر ہوئی، تاہم انہوں نے دعویٰ کیا کہ ووٹرز نے ایران کے معاملے پر ان کے فیصلوں اور اقدامات کی حمایت بھی کی ہے۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں انتخابی نتائج پر ایران کی صورت حال کا ایک حد تک اثر ضرور پڑا، لیکن اس کے ساتھ امریکی عوام نے ایران کے معاملے میں ان کے اقدامات کی اہمیت کو بھی سمجھا۔
انٹرویو کے دوران آئندہ سیاسی حکمت عملی پر گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ کانگریس میں اکثریت حاصل کرنے کے بعد ڈیموکریٹس ان کے پاس قانون سازی کے ایسے مسودے بھیجیں گے جنہیں وہ احمقانہ اور غیر معقول سمجھتے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ وہ ایسے تمام بلوں کو بلا جھجک ویٹو کردیں گے۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ جب چند ماہ تک ڈیموکریٹس کے پیش کردہ قوانین مسلسل ویٹو ہوتے رہیں گے تو بالآخر وہ خود رابطہ کرکے پوچھیں گے کہ معاملات کو آگے کیسے بڑھایا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ ڈیموکریٹس فون کرکے پوچھیں گے کہ ہم کام کو آگے کیسے بڑھائیں، جس کے بعد دونوں فریق مل کر کام کریں گے۔
فاکس نیوز کے انٹرویو میں جب صدر ٹرمپ سے سوال کیا گیا کہ کیا وہ وسط مدتی انتخابات کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کرتے ہیں تو انہوں نے جواب دیا کہ جی ہاں، بالکل، آخر ان نتائج کو تسلیم کیوں نہیں کیا جائے گا؟
صدر ٹرمپ نے اپنے سیاسی حریفوں کے حوالے سے روایتی سخت مؤقف کے برعکس ڈیموکریٹس کو انتخابی کامیابی پر مبارکباد بھی دی۔
انہوں نے کہا کہ ڈیموکریٹس نے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے اور وہ گزشتہ 11 برس سے ایسی کامیابی کے منتظر تھے۔
تاہم امریکی صدر نے اس تاثر کو مکمل طور پر مسترد کردیا کہ وسط مدتی انتخابات کے نتائج ان کی ذاتی مقبولیت میں کمی یا ان کی قیادت کے خلاف عوامی ردعمل کی عکاسی کرتے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ وہ ان نتائج کو اپنے خلاف کوئی حملہ یا ذاتی ناکامی تصور نہیں کرتے۔