امیگریشن فراڈ کی تحقیقات کے باوجود الہان عمر مسلسل پانچویں بار کانگریس کی رکن منتخب
امریکی کانگریس کی مسلمان رکن الہان عمر نے امیگریشن فراڈ سے متعلق وفاقی تحقیقات اور سیاسی مخالفت کے باوجود ریاست مینیسوٹا سے مسلسل پانچویں بار انتخابی کامیابی حاصل کرلی، انہوں نے ری پبلکن امیدوار جان نیگل کو شکست دے کر امریکی ایوان نمائندگان میں اپنی نشست برقرار رکھی۔
امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز کے مطابق ڈیموکریٹک امیدوار الہان عمر نے مینیسوٹا کے پانچویں کانگریسی انتخابی حلقے سے کامیابی حاصل کی، جس میں منی ایپلس شہر اور اس کے نواحی علاقے شامل ہیں۔
امریکی وسط مدتی انتخابات میں یہ الہان عمر کی مسلسل پانچویں کامیابی ہے۔ ان کا انتخابی حلقہ ڈیموکریٹک پارٹی کا مضبوط انتخابی مرکز سمجھا جاتا ہے۔
صومالیہ سے پناہ گزین کی حیثیت سے امریکا آنے والی الہان عمر 2019 سے امریکی کانگریس میں مینیسوٹا کے پانچویں انتخابی حلقے کی نمائندگی کر رہی ہیں۔
الہان عمر پہلی مرتبہ 2018 کے وسط مدتی انتخابات میں کامیاب ہوئی تھیں اور امریکی ایوان نمائندگان کی رکن منتخب ہونے والی پہلی دو مسلمان خواتین میں شامل تھیں۔
**امیگریشن دستاویزات سے متعلق وفاقی تحقیقات**
انتخابی کامیابی کے باوجود الہان عمر کو امیگریشن فراڈ کے الزامات سے متعلق وفاقی تحقیقات کا سامنا ہے۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق 12 اکتوبر کو امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کے تحقیقاتی اہلکاروں نے واشنگٹن میں الہان عمر کی رہائش گاہ پر چھاپا مارا تھا۔
رپورٹس کے مطابق یہ کارروائی ان کی امیگریشن سے متعلق دستاویزات کی تحقیقات کے سلسلے میں کی گئی تھی۔
بتایا گیا ہے کہ حکام نے کارروائی کے دوران الہان عمر کا موبائل فون، پاسپورٹ اور کمپیوٹر بھی قبضے میں لے لیا تھا۔
تحقیقاتی حکام اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا امریکی شہریت حاصل کرنے کے لیے جمع کرائی گئی امیگریشن دستاویزات میں کوئی غلط معلومات فراہم کی گئی تھیں۔
دوسری جانب الہان عمر نے اپنے خلاف عائد الزامات کی تردید کرتے ہوئے تحقیقات کو سیاسی بنیادوں پر کی جانے والی کارروائی قرار دیا ہے۔