سائنسدانوں نے خلا سے آنے والے ایک پراسرار ریڈیو سگنل کا سراغ لگالیا
خلائی مخلوق اور زمین کے علاوہ دیگر سیاروں پر زندگی کی تلاش میں مصروف سائنسدانوں نے خلا سے آنے والے ایک پراسرار ریڈیو سگنل کا سراغ لگایا ہے، جس کی دریافت نے زمین سے باہر زندگی کے امکانات سے متعلق نئی دلچسپی پیدا کردی ہے، تاہم محققین نے واضح کیا ہے کہ اس سگنل کو خلائی مخلوق کی موجودگی کا ثبوت قرار نہیں دیا جاسکتا۔
برطانوی اخبار ڈیلی میل کے مطابق چینی سائنسدانوں کی سربراہی میں کام کرنے والی ایک تحقیقی ٹیم نے دنیا کی سب سے بڑی سنگل ڈش ریڈیو دوربین ’فاسٹ‘ کے پرانے ڈیٹا کا تجزیہ کرتے ہوئے یہ غیر معمولی سگنل دریافت کیا۔
سائنسدانوں کے مطابق یہ ریڈیو سگنل زمین سے تقریباً 238 نوری سال کے فاصلے پر واقع ستاروں کے نظام K2-155 کی سمت سے ریکارڈ کیا گیا۔
اس ستاروں کے نظام میں زمین سے بڑے 3 سیارے موجود ہیں، جن میں سے ایک ایسے خطے کے قریب واقع ہے جہاں پانی کی موجودگی کے لیے موزوں حالات پائے جانے کا امکان ہے۔
محققین نے اس پراسرار سگنل کو NBS 260108 کا نام دیا ہے، جو ایک مخصوص ریڈیو فریکوئنسی پر ظاہر ہوا، تاہم وقت گزرنے کے ساتھ اس کی فریکوئنسی بتدریج تبدیل ہوتی رہی۔
اس سگنل کی ایک غیر معمولی خصوصیت یہ بھی سامنے آئی کہ فاسٹ ریڈیو دوربین کے مجموعی طور پر 19 ریسیور بیمز میں سے صرف ایک میں اسے ریکارڈ کیا گیا، جبکہ باقی 18 بیمز میں اس کا کوئی سراغ نہیں ملا۔
اس منفرد مشاہدے نے سائنسدانوں کی توجہ حاصل کی ہے اور وہ سگنل کے ممکنہ ماخذ کا تعین کرنے کے لیے تحقیق کر رہے ہیں۔
سائنسدانوں نے واضح کیا ہے کہ خلا سے کسی پراسرار ریڈیو سگنل کا موصول ہونا اس بات کا ثبوت نہیں کہ کائنات میں خلائی مخلوق یا کوئی دوسری ذہین تہذیب موجود ہے۔
محققین کے مطابق یہ سگنل انسانی ٹیکنالوجی یا مشاہداتی آلات کی مداخلت کے نتیجے میں بھی پیدا ہوسکتا ہے۔
اسی وجہ سے سگنل کے اصل ماخذ کی تصدیق کے لیے مزید سائنسی تحقیق ضروری قرار دی گئی ہے، تاکہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ اس کا تعلق کسی حقیقی فلکیاتی مظہر سے ہے یا یہ تکنیکی مداخلت کا نتیجہ ہے۔
اس تحقیق کے نتائج معروف سائنسی جریدے ’دی ایسٹرونومیکل جرنل‘ میں شائع کیے گئے ہیں۔