Breaking News

عمران خان کا بشریٰ بی بی کی آنکھوں کے مسئلے پر اظہارِ تشویش، عدالتوں سے رجوع کرنے کی ہدایت

عمران خان کا بشریٰ بی بی کی آنکھوں کے مسئلے پر اظہارِ تشویش، عدالتوں سے رجوع کرنے کی ہدایت
۱ منٹ پہلے

بانی پی ٹی آئی اور سابق وزیراعظم عمران خان نے اپنی اہلیہ بشریٰ بی بی کی آنکھوں سے متعلق طبی مسئلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وکیل کو ہدایت کی ہے کہ ان کے لیے قانونی ریلیف حاصل کرنے کی غرض سے متعلقہ عدالتوں سے رجوع کیا جائے۔ 

 نجی ٹی وی  کے مطابق ذرائع  نے بتایا عمران خان نے پیر کے روز اڈیالہ جیل میں اپنے وکیل سے ملاقات کی۔ اس موقع پر وہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ، وفاقی حکومت کے ایمرجنسی اقدامات اور حالیہ سیاسی و آئینی پیش رفت سے پہلے ہی آگاہ تھے۔ 

ایک طویل وقفے کے بعد ہونے والی یہ ملاقات مبینہ طور پر پیشہ ورانہ اور قانونی امور تک محدود رکھی گئی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ملاقات سے قبل باہمی طور پر یہ طے کیا گیا تھا کہ اس دوران کسی قسم کی سیاسی گفتگو نہیں کی جائے گی۔ 

ذرائع نے بتایا کہ عمران خان جیل سے باہر ہونے والی پیش رفت، بشمول حالیہ آئینی اور سیاسی تبدیلیوں سے پہلے ہی باخبر تھے، تاہم ملاقات کے دوران ان کے وکیل نے ان معاملات پر کوئی بریفنگ نہیں دی۔ 

ملاقات کے دوران عمران خان کی صحت سے متعلق بھی گفتگو ہوئی، جسے ذرائع نے تسلی بخش قرار دیا۔ 

تاہم ذرائع کے مطابق بشریٰ بی بی کو آنکھوں سے متعلق طبی مسئلہ درپیش ہے، جس پر بانی پی ٹی آئی نے تشویش کا اظہار کیا۔ 

عمران خان نے اپنے وکیل کو ہدایت کی کہ بالخصوص بشریٰ بی بی کے معاملے میں ریلیف حاصل کرنے کے لیے عدالتوں کے ذریعے دستیاب قانونی راستے اختیار کیے جائیں۔ 

ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان نے اس بات پر زور دیا کہ معاملے کو مناسب عدالتی فورمز پر اٹھایا جائے تاکہ قانون کے مطابق ریلیف حاصل کیا جاسکے۔ 

یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی جب خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اقدامات اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد سیاسی کشیدگی میں اضافہ ہوچکا ہے۔ صوبے میں اس سے قبل تحریک انصاف کی حکومت قائم تھی۔ 

ان سیاسی پیش رفتوں کے نتیجے میں خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کے سیاسی مستقبل اور وفاقی حکومت کے اقدامات کے بعد جماعت کی آئندہ حکمت عملی سے متعلق سوالات سامنے آئے ہیں۔ 

تاہم ذرائع کے مطابق اڈیالہ جیل میں عمران خان اور ان کے وکیل کے درمیان ہونے والی ملاقات میں سیاسی معاملات کے بجائے قانونی اور پیشہ ورانہ امور پر ہی گفتگو کی گئی۔

مزید خبروں اور دلچسپ ویڈیوز کے لیے ہمارے ساتھ شامل ہوں