برطانیہ میں لیبر پارٹی کو حریف جماعتوں پر 8 پوائنٹس کی برتری، قبل از وقت انتخابات کی قیاس آرائیاں تیز
برطانیہ میں ایک حالیہ عوامی سروے کے مطابق حکمران لیبر پارٹی نے اپنی دو بڑی حریف جماعتوں کنزرویٹو پارٹی اور ریفارم یو کے پر 8 پوائنٹس کی برتری حاصل کرلی ہے، جس کے بعد ملک میں قبل از وقت عام انتخابات کے انعقاد سے متعلق سیاسی قیاس آرائیوں میں ایک مرتبہ پھر اضافہ ہوگیا ہے۔
سروے کے نتائج کے مطابق لیبر پارٹی کی عوامی حمایت 30 فیصد تک پہنچ گئی ہے، جبکہ کنزرویٹو پارٹی اور ریفارم یو کے دونوں کو 22، 22 فیصد حمایت حاصل ہے۔
دوسری جانب لبرل ڈیموکریٹس کی مقبولیت میں کوئی تبدیلی نہیں آئی اور ان کی حمایت 10 فیصد پر برقرار رہی۔
وزیراعظم اینڈی برنہم کی مقبولیت میں برتری
30 اکتوبر سے یکم نومبر کے درمیان کیے گئے سروے میں وزیراعظم اینڈی برنہم کی ذاتی مقبولیت کی نیٹ اپروول ریٹنگ مثبت 16 پوائنٹس ریکارڈ کی گئی۔
اسی سروے میں کنزرویٹو پارٹی کی سربراہ کیمی بیڈنوک کی نیٹ اپروول ریٹنگ مثبت 5 پوائنٹس رہی۔
دوسری جانب ریفارم یو کے کے سربراہ نائجل فراج کی نیٹ مقبولیت منفی 21 پوائنٹس پر برقرار رہی۔
سروے کے مطابق اس عرصے کے دوران وزیراعظم اینڈی برنہم کی نیٹ اپروول ریٹنگ دونوں بڑی حریف جماعتوں کے رہنماؤں سے زیادہ رہی۔
برطانیہ میں قبل از وقت عام انتخابات کی قیاس آرائیاں
لیبر پارٹی کی مقبولیت میں واضح برتری سامنے آنے کے بعد برطانوی سیاسی حلقوں میں قبل از وقت عام انتخابات کے انعقاد سے متعلق بحث ایک مرتبہ پھر تیز ہوگئی ہے۔
تاہم وزیراعظم اینڈی برنہم پہلے ہی آئندہ ایک سال کے دوران اچانک عام انتخابات کرانے کے امکان کو مسترد کرچکے ہیں۔
ایک ٹیلی وژن انٹرویو میں وزیراعظم نے کہا کہ وہ اپنے آئندہ 10 سالہ قومی منصوبے پر عمل درآمد کے لیے مناسب وقت پر عوام سے نیا مینڈیٹ حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔
اس طرح حالیہ سروے کے بعد قبل از وقت انتخابات کے حوالے سے سیاسی قیاس آرائیاں تو جاری ہیں، تاہم وزیراعظم اپنے بیان میں آئندہ ایک سال کے دوران انتخابات کرانے کے امکان کو مسترد کرچکے ہیں۔