خیبرپختونخوا کے ایم ٹی آئی ہسپتالوں میں بڑی تبدیلیوں کی تیاری
خیبرپختونخوا میں میڈیکل ٹیچنگ انسٹی ٹیوشنز (ایم ٹی آئی) کے تحت چلنے والے ہسپتالوں کے انتظامی ڈھانچے اور اختیارات میں ممکنہ تبدیلیوں کے لیے گورنر کی ایڈوائزری کونسل نے مشاورت شروع کردی ہے۔ تحریک انصاف کے دور حکومت میں ان اداروں کو دی گئی خودمختاری اور بورڈ آف گورنرز کے اختیارات پر بھی نظرثانی زیر غور ہے۔
ذرائع کے مطابق ایڈوائزری کونسل نے ایم ٹی آئی ہسپتالوں کے اندرونی معاملات، انتظامی فیصلوں اور موجودہ نظام سے متعلق معلومات حاصل کرنے کے لیے ایسے ڈاکٹروں اور ملازمین سے رابطے شروع کیے ہیں جو ان اداروں کے انتظامی اور عملی امور سے واقف ہیں۔
ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ایم ٹی آئی ہسپتالوں کے متعدد اہم انتظامی عہدوں پر اس وقت انصاف ڈاکٹرز فورم سے وابستہ افراد تعینات ہیں۔ ان تقرریوں، موجودہ انتظامی ڈھانچے اور اہم عہدوں پر ممکنہ تبدیلیوں کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا جارہا ہے۔
اس سلسلے میں ریٹائرڈ ڈاکٹروں اور سابق ملازمین کو بورڈ آف گورنرز میں شامل کرنے کی تجویز بھی سامنے آئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق بعض ریٹائرڈ ڈاکٹروں کو بورڈز کا چیئرمین مقرر کرنے کے امکان پر بھی غور کیا جارہا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مجوزہ حکمت عملی کے تحت تجربہ کار ریٹائرڈ ڈاکٹروں کو بورڈز کی سربراہی سونپنے سے ایم ٹی آئی ہسپتالوں کے سابقہ انتظامی فیصلوں، تقرریوں، اختیارات کے استعمال اور دیگر معاملات کا جائزہ لینے میں مدد مل سکتی ہے۔
اس مقصد کے لیے ایڈوائزری کونسل مبینہ طور پر ایسے ریٹائرڈ ڈاکٹروں اور سابق ملازمین سے رابطے میں ہے جو ایم ٹی آئی نظام کے قیام، عملی نفاذ اور ہسپتالوں کے انتظامی معاملات کا تجربہ رکھتے ہیں۔ اس حوالے سے ملاقاتوں اور مشاورتی اجلاسوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
ذرائع کے مطابق کونسل ایک ایسے ممکنہ منصوبے پر غور کررہی ہے جس کے تحت بورڈ آف گورنرز کی سربراہی کے لیے تجربہ کار ریٹائرڈ افراد کا انتخاب کیا جاسکے۔
تاہم ایم ٹی آئی ہسپتالوں کے انتظامی ڈھانچے، بورڈز کی سربراہی یا موجودہ اختیارات میں تبدیلی کے حوالے سے تاحال کوئی حتمی فیصلہ منظور نہیں ہوا اور نہ ہی کوئی باضابطہ اعلان سامنے آیا ہے۔