Pakistan

ہر کسی سے جھگڑنے کے بجائے بات چیت کریں، معاشی ترقی کب ہوگی؟ بلاول بھٹو

ہر کسی سے جھگڑنے کے بجائے بات چیت کریں، معاشی ترقی کب ہوگی؟ بلاول بھٹو
۱ منٹ پہلے

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے وفاقی حکومت کو سیاسی اختلافات اور محاذ آرائی ختم کرکے معاشی مسائل پر توجہ دینے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہر کسی سے جھگڑنے کے بجائے تمام سیاسی جماعتوں اور صوبائی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ بات چیت کی جائے۔ 

بلاول بھٹو نے سوال اٹھایا کہ اگر ہم پاکستان تحریک انصاف اور مولانا فضل الرحمان سے لڑتے رہیں گے تو ملک میں معاشی ترقی کب ہوگی؟ 

انہوں نے کہا کہ سابق وزیر خارجہ کی حیثیت سے وفاقی حکومت کو ان کا مشورہ ہے کہ سیاسی اختلافات کے بجائے عوام کو درپیش معاشی مشکلات کے حل کو ترجیح دی جائے۔ 

چیئرمین پیپلز پارٹی نے زور دیا کہ وفاقی حکومت کو صوبائی حکومتوں اور سیاسی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مسلسل رابطے برقرار رکھنے چاہئیں اور محاذ آرائی کے بجائے مذاکرات کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ 

وزیراعظم شہباز شریف سے حالیہ ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ ان کی ملاقات انتہائی مثبت رہی اور اس کے نتیجے میں وفاق کے ساتھ رابطہ کاری بہتر ہونے کی توقع ہے۔ 

انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم کے ساتھ مل کر عوامی مفاد میں کام کرنے کی حکمت عملی بنائی گئی ہے۔ بلاول بھٹو نے وزیراعظم کو وفاقی کابینہ کے اجلاس مختلف صوبوں میں منعقد کرنے کی تجویز بھی دی، جبکہ وفاق اور سندھ کے درمیان رابطہ کاری بہتر بنانے کے لیے کراچی میں اجلاس منعقد کیا جائے گا۔ 

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں کو انتخابی اصلاحات کمیٹی کا حصہ بننا چاہیے تاکہ متعلقہ معاملات پر مشترکہ پیش رفت ممکن ہوسکے۔ 

صحت کے شعبے پر گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے دعویٰ کیا کہ سندھ حکومت دیگر صوبوں کے مقابلے میں ہسپتالوں کی ذمہ داریاں زیادہ بہتر انداز میں نبھا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ لاڑکانہ میں ہسپتال کی تعمیر کے لیے وفاقی حکومت نے کوئی معاونت فراہم نہیں کی، جبکہ کافی عرصے سے سندھ میں وفاقی ترقیاتی منصوبے نہ ہونے کے برابر ہیں۔ 

سیاسی مخالفین پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تنقید کرنا آسان اور عملی کام کرنا مشکل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کچھ لوگ سیمینار سیمینار کھیل رہے ہیں، آپ بھی سیمینار رکھ لیں، میں آ جاؤں گا۔ 

  لاڑکانہ میں 600 بستروں پر مشتمل نئے ہسپتال کی سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ چانڈکا ہسپتال شہید ذوالفقار علی بھٹو کی جانب سے عوام کے لیے ایک تحفہ تھا، تاہم اب مریضوں کے بڑھتے ہوئے بوجھ کے باعث موجودہ ہسپتال کی استعداد ناکافی ہوچکی ہے۔ 

انہوں نے بتایا کہ لاڑکانہ کے ہسپتالوں میں سندھ کے علاوہ بلوچستان کے علاقے نصیر آباد اور دیگر مقامات سے بھی مریض علاج کے لیے آتے ہیں۔ 

بلاول بھٹو نے کہا کہ پہلی مرتبہ رکن قومی اسمبلی منتخب ہونے کے بعد چانڈکا میڈیکل ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ سے ملاقات ہوئی تو ادارے کو درپیش مشکلات کا اندازہ ہوا۔ 

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی عوام کو عالمی معیار کی طبی سہولتیں فراہم کرنے کے لیے کام کر رہی ہے اور ایسا نظام ہونا چاہیے جس میں کوئی شہری مالی وسائل نہ ہونے کے باعث علاج سے محروم نہ رہے۔ 

چیئرمین پیپلز پارٹی کے مطابق موجودہ معاشی حالات میں عوام کے لیے مفت علاج کی سہولت مزید اہم ہوگئی ہے، اسی لیے سندھ بھر میں صحت کے شعبے کو خصوصی توجہ دی جارہی ہے۔ 

انہوں نے بتایا کہ سندھ حکومت اعلیٰ تعلیم کی فراہمی پر 45 ارب روپے خرچ کر رہی ہے، جبکہ تعلیمی اداروں کو خودمختار اور مستحکم بنانے کے لیے بھی کوششیں جاری ہیں۔ 

بلاول بھٹو نے لاڑکانہ میں پانی کی فراہمی کی صورتحال کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے کہا کہ شہریوں کو پانی کی بہتر سہولت فراہم کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔ 

انہوں نے زور دیا کہ معاشی مشکلات کے موجودہ دور میں عوام کو صحت، تعلیم اور دیگر بنیادی سہولتیں فراہم کرنے کی ذمہ داری مزید بڑھ گئی ہے۔

مزید خبروں اور دلچسپ ویڈیوز کے لیے ہمارے ساتھ شامل ہوں